بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
لَاۤ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِۙ 75|1
نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَة 75|2
اور نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔
اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ 75|3
کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی (بوسیدہ) ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے؟
بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ 75|4
ہاں ضرور جمع کریں گے ہم اس کی انگلیوں کے پور پور درست کرنے پر قادر ہیں۔
بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ 75|5
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آئندہ زندگی میں) بھی بدعملی کرتا رہے۔
يَسْـَٔلُ اَيَّانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِؕ 75|6
اس لئے) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا؟
فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُۙ 75|7
پس جب نگاہ خیرہ ہو جائے گی۔
وَ خَسَفَ الْقَمَرُۙ 75|8
اور چاند کو گہن لگ جائے گا۔
وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُۙ 75|9
اور سورج اور چاند اکٹھے کر دئیے جائیں گے۔
يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ 75|10
اس دن انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟