تَبٰرَكَ الَّذِيْ (29)

سورۃ المدثر (74)

(41-56)

عَنِ الْمُجْرِمِيْنَۙ 74|41

اور) مجرموں سے سوال و جواب کرتے ہوں گے۔

مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ 74|42

کہ تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟

قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ 74|43

وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔

وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَۙ 74|44

اور مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔

وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآىِٕضِيْنَ۠ۙ 74|45

اور بےہودہ باتیں کرنے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی بےہودہ کام کرتے تھے۔

وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِۙ 74|46

اور ہم جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔

حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْيَقِيْنُؕ 74|47

یہاں تک کہ یقینی چیز (موت) ہمارے سامنے آگئی۔

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَؕ 74|48

تو ایسے لوگوں کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَۙ 74|49

سو انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے رُوگردانی کرتے ہیں؟

كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ 74|50

گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں۔

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ 74|51

جوشیر سے (ڈر کر) بھاگے جا رہے ہیں۔

بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ 74|52

بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دے دی جائیں۔

كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ 74|53

ایسا نہیں ہے بلکہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔

كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ 74|54

ہرگز نہیں یہ تو ایک نصیحت ہے۔

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَه 74|55

جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔

وَ مَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ 74|56

اور وہ اس سے نصیحت حاصل نہیں کریں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے وہی اس کا حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی اس قابل ہے کہ مغفرت فرمائے۔