وَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ يَزْدَادَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِيْمَانًا وَّ لَا يَرْتَابَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِيَقُوْلَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ مَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِيَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ 74|31
اور ہم نے دوزخ کے داروغے صرف فرشتے بنائے ہیں اور ہم نے ان کی تعداد کو کافروں کیلئے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اہلِ کتاب یقین کریں اور اہلِ ایمان کے ایمان میں اضافہ ہو جائے اور اہلِ کتاب اور اہلِ ایمان شک و شبہ نہ کریں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر لوگ کہیں گے کہ اس بیان سے اللہ کی کیا مراد ہے؟ اسی طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور یہ (دوزخ کا) بیان نہیں ہے مگر انسانوں کے لئے نصیحت۔
كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ 74|32
ہرگز نہیں! قَسم ہے چاند کی۔
وَ الَّيْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ 74|33
اور رات کی جب وہ جانے لگے۔
وَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ 74|34
اور صبح کی جب وہ روشن ہو جائے۔
اِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ 74|35
وہ (دوزخ) بڑی چیزوں میں سے ایک بڑی چیز ہے۔
نَذِيْرًا لِّلْبَشَرِۙ 74|36
جو) انسانوں کیلئے ڈراوا ہے۔
لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّتَقَدَّمَ اَوْ يَتَاَخَّرَؕ 74|37
یعنی تم میں سے (ہر اس) شخص کیلئے جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے ہٹنا چاہے۔
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌۙ 74|38
ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں گروی ہے۔
اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْيَمِيْنِؕۛ 74|39
سوائے دائیں ہاتھ والے (جنتیوں) کے۔
فِيْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ يَتَسَآءَلُوْنَ۠ۙ 74|40
جو بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔