قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ 51|31
آپ (ابراہیم(ع)) نے کہا اے فرستادو آخر تمہاری مہم کیا ہے؟
قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَۙ 51|32
انہوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم (قومِ لوط(ع)) کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِيْنٍۙ 51|33
تاکہ ہم ان پر ایسے سنگ گل (سخت مٹی کے پتھر) برسائیں۔
مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِيْن 51|34
جو آپ(ع) کے پروردگار کی طرف سے نشان زدہ ہیں حد سے بڑھنے والوں کیلئے۔
فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِيْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَۚ 51|35
سو وہاں جتنے اہلِ ایمان تھے ہم نے ان کو نکال لیا۔
فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَۚ 51|36
اور ہم نے ایک گھر کے سوا اور مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔
وَ تَرَكْنَا فِيْهَاۤ اٰيَةً لِّلَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِيْمَؕ 51|37
اور ہم نے اس (واقعہ) میں ایک نشانی چھوڑ دی ہے ان لوگوں کے لئے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
وَ فِيْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ 51|38
اور جنابِ موسیٰ (ع) کے قصہ میں بھی (ایک نشانی ہے) جبکہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک واضح سند کے ساتھ بھیجا۔
فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ 51|39
تو اس نے اپنی طاقت کے بِرتے پر رُوگردانی کی اور کہا کہ (یہ شخص) جادوگر ہےیا دیوانہ؟
فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ وَ هُوَ مُلِيْمٌؕ 51|40
انجامِ کار ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا درآنحالیکہ وہ قابلِ ملامت تھا۔