لَا يُحِبُّ اللّٰهُ (6)

سورۃ النساء (4)

(148-160)

لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِيْمًا 4|148

اللہ علانیہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ جس پر ظلم ہوا ہو (کہ اس کے لیے ظالم کی بدگوئی جائز ہے) اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيْرًا 4|149

اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ۔ یا کسی برائی سے درگزر کرو۔ تو بے شک اللہ (بھی) بڑا معاف کرنے والا، بڑا قدرت والا ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ يَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا 4|150

بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ (ایمان و کفر کے) درمیان کوئی راستہ نکالیں۔

اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا 4|151

یہی وہ لوگ ہیں، جو حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 4|152

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں وہ (اللہ) ان کا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا۔

يَسْـَٔلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَيْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا 4|153

آپ سے اہل کتاب مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی (لکھی ہوئی) کتاب اتروا دیں سو یہ تو جناب موسیٰ سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے ہیں یعنی کہا تھا کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ دکھا دو تو ان کے (اسی) ظلم کی وجہ سے ان کو بجلی نے پکڑ لیا۔ اور پھر ان لوگوں نے آیات و معجزات آجانے کے بعد گوسالے کو (خدا) بنا لیا۔ مگر ہم نے انہیں معاف کر دیا اور موسیٰ کو کھلا ہوا غلبہ عطا کیا۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِيْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِي السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا 4|154

اور ہم نے ان سے (فرمانبرداری کا) پختہ عہد لینے کے لیے ان کے اوپر کوہ طور کو بلند کیا اور ہم نے ان سے کہا سجدہ ریز ہوکر دروازہ (شہر) میں داخل ہو جاؤ اور ان سے کہا کہ قانون سبت کے بارے میں زیادتی نہ کرو (حد سے نہ بڑھو) اور ہم نے ان سے پختہ عہد و پیمان لیا تھا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا 4|155

سو (ان کو جو سزا ملی وہ) ان کے عہد شکنی کرنے، آیاتِ الٰہیہ کا انکار کرنے، نبیوں کو ناحق قتل کرنے اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے (دلوں) پر مہر لگا دی ہے۔ اس لیے وہ بہت کم ایمان لائیں گے۔

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا 4|156

نیز ان کے ساتھ یہ جو کچھ ہوا یہ ان کے کفر کی وجہ سے ہوا۔ اور جناب مریم پر بہتان عظیم لگانے کی وجہ سے۔

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا 4|157

اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے خدا کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے نہ انہیں قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان پر اصل معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ یقینا اس کے متعلق شک میں ہیں اور انہیں گمان کی پیروی کرنے کے سوا کوئی علم نہیں ہے۔ اور انہوں نے یقینا ان کو قتل نہیں کیا۔

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا 4|158

بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا 4|159

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں، جو اپنی موت (یا ان کی موت) سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے اور وہ قیامت کے دن ان کے خلاف گواہ ہوں گے۔

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا 4|160

یہودیوں کے ایسے ہی مظالم اور زیادتیوں کیوجہ سے ہم نے وہ بہت سی پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کر دیں، جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں۔ نیز ان کے (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے بکثرت روکنے کی وجہ سے۔