وَالْمُحْصَنٰتُ (5)

سورۃ النساء (4)

(141-147)

ا۟لَّذِيْنَ يَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْۖ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِيْنَ نَصِيْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ١ؕ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا 4|141

یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے (انجام) کے منتظر رہتے ہیں۔ پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح و فیروزی حاصل ہوگئی تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کو (فتح کا) کچھ حصہ مل گیا تو (کافروں سے) کہتے ہیں۔ کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے؟ اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں سے نہیں بچایا؟ اب اللہ ہی قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کبھی کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ١ۙ يُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا 4|142

منافق (بزعم خود) خدا کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ وہ انہیں دھوکے میں رکھ رہا ہے (انہیں ان کی دھوکہ بازی کی سزا دینے والا ہے) اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو بے دلی اور کاہلی کے ساتھ وہ بھی خلوص نیت سے نہیں بلکہ محض لوگوں کو دکھانے کے لیے۔ اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑ۔

مُّذَبْذَبِيْنَ بَيْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِيْلًا 4|143

وہ (کفر و اسلام کے) درمیان ڈانواں ڈول ہیں نہ پورے اس طرف نہ پورے اس طرف جسے اللہ بھٹکنے دے (اس کی کج رفتاری کی وجہ سے توفیق ہدایت سلب کر لے) تو تو اس کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ نہیں پائے گا۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ١ؕ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا 4|144

اے ایمان والو! اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے خلاف اللہ کو کھلی ہوئی دلیل مہیا کر دو۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيْرًا 4|145

بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے والے طبقہ میں ہوں گے۔ اور تم ان کے کوئی یار و مددگار نہیں پاؤگے۔

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِيْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ١ؕ وَ سَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا 4|146

سوا ان کے جنہوں نے توبہ کی، اپنی اصلاح کرلی۔ اور اللہ سے وابستہ ہوگئے اور اللہ کے لئے اپنا دین خالص کر دیا (خلوص کے ساتھ اس کی اطاعت کرنے لگے) تو یہ لوگ مؤمنین کے ساتھ ہوں گے اور اللہ اہل ایمان کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيْمًا 4|147

اگر تم شکرگزار بن جاؤ۔ اور ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب کرکے کیا کرے گا؟ اور اللہ تو بڑا قدردان ہے (اور) بڑا جاننے والا ہے۔