وَالْمُحْصَنٰتُ (5)

سورۃ النساء (4)

(24-30)

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِيْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرٰضَيْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِيْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا (4|24)

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں، جو شوہردار ہوں۔ مگر وہ ایسی عورتیں جو (شرعی جہاد میں) تمہاری ملکیت میں آئیں۔ یہ آئین ہے، اللہ کا جو تم پر لازم ہے۔ اور ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں کہ اپنے مال (حق مہر) کے عوض ان سے شادی کرلو۔ بدکاری سے بچنے اور پاکدامنی کو قائم رکھنے کے لیے اور ان عورتوں میں سے جن سے تم متعہ کرو۔ تو ان کی مقررہ اجرتیں ادا کر دو۔ اور اگر زرِ مہر مقرر کرنے کے بعد تم آپس میں (کم و بیش پر) راضی ہو جاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بے شک اللہ بہت جاننے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔

وَ مَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِيْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (4|25)

اور تم میں سے جو شخص مالی حیثیت سے اس کی قدرت نہ رکھتا ہو کہ وہ (خاندانی) مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کر سکے۔ تو وہ ان مسلمان لونڈیوں سے (نکاح کرلے) جو تمہاری ملکیت میں ہوں اور اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے تم (اسلام کی حیثیت سے) سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس ان (لونڈیوں) کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو۔ اور بھلائی کے ساتھ ان کے حق مہر ادا کرو۔ تاکہ وہ (قید نکاح میں آکر) پاکدامن رہیں۔ اور شہوت رانی نہ کرتی پھریں۔ اور نہ ہی چوری چھپے آشنا بناتی پھریں۔ سو جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہو جائیں تو اگر اب بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کے لئے آزاد عورتوں کی نصف سزا ہوگی۔ یہ رعایت (کہ خاندانی مسلمان آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو کنیز سے نکاح کرنے کا جواز) اس شخص کے لئے ہے جسے (نکاح نہ کرنے سے) بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اور اگر ضبط سے کام لو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔

يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَ يَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ يَتُوْبَ عَلَيْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ (4|26)

اللہ چاہتا ہے کہ (تم سے اپنے احکام) کھول کر بیان کر دے اور تمہیں ان لوگوں کے طریقوں پر چلائے جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور تمہاری توبہ قبول کرے اللہ بڑا جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

وَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ١۫ وَ يُرِيْدُ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِيْلُوْا مَيْلًا عَظِيْمًا (4|27)

اور اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے مگر وہ لوگ جو خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے بھٹک کر) بہت دور نکل جاؤ۔

يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا (4|28)

اللہ چاہتا ہے کہ تمہارا بوجھ ہلکا کرے (کیونکہ) انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا (4|29)

اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارتی معاملہ ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔

وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرًا (4|30

اور جو شخص ظلم و تعدی سے ایسا کرے گا۔ تو ہم عنقریب اسے آتش (دوزخ) میں ڈالیں گے۔ اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔