سَنُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِيْنَ (3|151)
تم پریشان نہ ہو) ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں (تمہارا) رعب ڈال دیں گے اس لئے کہ انہوں نے خدائی میں ان بتوں کو شریک بنایا ہے۔ جن کے بارے میں خدا نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ہے اور ان کا انجام جہّنم ہوگا اور وہ ظالمین کا بدترین ٹھکانہ ہے۔
وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَ عَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ (3|152)
خدا نے (جنگ احد میں) اپنا وعدہ (نصرت) اس وقت سچا کر دکھایا جب تم اس کے حکم سے ان (کافروں) کا قلع قمع کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی تو تم نے حکم عدولی کی اس کے بعد کہ تمہیں دکھا دیا گیا تھا جو تم پسند کرتے تھے ۔ (یہ اس لئے کہ) تم میں کچھ دنیا کے طلب گار تھے اور کچھ آخرت کے طلبگار تھے پھر اس نے تمہیں ان کے مقابلے میں پسپا کر دیا تاکہ تمہارے ایمان و اخلاص کی آزمائش کرے۔ اور (پھر بھی) تمہیں معاف کر دیا۔ اور اللہ اہل ایمان پر بڑا فضل کرنے والا ہے
اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ فِيْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (3|153)
اس وقت کو یاد کرو) جب تم بے تحاشا بھاگے چلے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ حالانکہ پیغمبر(ص) تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے۔ (تمہاری اس روش کی وجہ سے) خدا نے تمہیں ثواب کے بدلے رنج پر رنج دیا۔ تاکہ (آئندہ) جو چیز تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اس پر ملول نہ ہو اور جو مصیبت درپیش ہو اس پر رنج نہ کرو۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے خوب باخبر ہے۔
ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَآىِٕفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ١ؕ يَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ يُخْفُوْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (3|154)
پھر اس (خدا) نے رنج و غم کے بعد نیند کی صورت میں تم پر سکون و اطمینان اتارا۔ جو تم میں سے ایک گروہ پر طاری ہوگئی۔ اور ایک گروہ ایسا تھا کہ جسے صرف اپنی جانوں کی فکر تھی وہ اللہ کے ساتھ ناحق زمانۂ جاہلیت والے گمان کر رہا تھا وہ کہہ رہا تھا۔ کہ آیا اس معاملہ میں ہمیں بھی کچھ اختیار ہے؟ کہہ دیجیے۔ ہر امر کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ یہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی باتیں چھپائے ہوئے ہیں۔ جن کا آپ سے اظہار نہیں کرتے کہتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاتھ میں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ کہہ دیجیے! اگر تم لوگ اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو بھی جن کے لئے قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور اپنے مقتل کی طرف نکل کر جاتے (یہ سب کچھ اس لئے ہوا) کہ خدا اسے آزمائے جو کچھ تمہارے سینوں کے اندر ہے اور نکھار کے سامنے لائے اس (کھوٹ) کو جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کے اندر کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ (3|155)
بے شک جن لوگو ں نے دو جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن پیٹھ پھرائی (اس کا سبب یہ تھا) کہ ان کی بعض بدعملیوں کے نتیجہ میں جو وہ کر بیٹھے تھے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگائے تھے اور بے شک اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔ یقینا اللہ بڑا بخشنے والا نہایت بردبار ہے۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِي الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِيَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِيْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (3|156)
اے ایمان والو! کافروں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے ان بھائی بندوں کے بارے میں کہتے ہیں جو سفر میں گئے۔ یا جہاد کے لیے نکلے (اور وہاں وفات پا گئے) کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ (طبعی موت) مرتے اور نہ قتل کئے جاتے۔ یہ لوگ یہ بات اس لئے کہتے ہیں کہ خدا اسے ان کے دلوں میں رنج و حسرت کا باعث بنا دے۔ حالانکہ اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
وَ لَىِٕنْ قُتِلْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ (3|157)
اور اگر تم راہِ خدا میں قتل کئے جاؤ۔ یا اپنی موت سے مر جاؤ۔ تو بے شک اللہ کی بخشش اور اس کی رحمت بہت ہی بہتر ہے اس (مال و دولت) سے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔
وَ لَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِالَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ (3|158)
اور تم اپنی موت مرو۔ یا قتل کئے جاؤ۔ بہرحال اللہ کے ہی حضور میں محشور کئے جاؤگے۔
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (3|159)
اے رسول(ص)) یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے اتنے نرم مزاج ہو۔ ورنہ اگر تم درشت مزاج اور سنگدل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔ انہیں معاف کر دیا کریں۔ ان کے لیے دعائے مغفرت کیا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ بھی لے لیا کریں۔ مگر جب کسی کام کے کرنے کا حتمی ارادہ ہو جائے تو پھر خدا پر بھروسہ کریں بے شک اللہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ يَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (3|160)
اگر اللہ تمہاری مدد کرے۔ تو کوئی بھی تم پر غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے (مدد نہ کرے) تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے اور اہل ایمان کو صرف خدا پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔