لَنْ تَنَالُوا (4)

سورہ آلِ عمران (3)

(161-170)

وَ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ يَّغْلُلْ يَاْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (3|161)

کسی نبی کی یہ شان اور کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو خیانت کرے گا۔ وہ اپنی خیانت کردہ چیز سمیت قیامت کے دن حاضر ہو جائے گا۔ پھر ہر ایک شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ (3|162)

بھلا وہ شخص جو ہمیشہ خدا کی رضا پر چلنے والا ہو۔ وہ اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو خدا کے غضب میں گھر گیا ہو۔ اور جس کا آخری ٹھکانہ دوزخ ہو اور وہ کیا برا ٹھکانہ ہے؟ ۔

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ (3|163)

ان دو قسم کے لوگوں کے) اللہ کے یہاں (مختلف درجے ہیں)۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ (3|164)

اللہ نے ہمیشہ اہل ایمان پر یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا۔ جو ان کے سامنے آیات الٰہی کی تلاوت کرتا ہے۔ ان کو پاکیزہ کرتا ہے (ان کی اصلاح کرتا ہے) اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (3|165)

اے مسلمانو! تمہارا کیا حال ہے) کہ جب تم پر (جنگ احد میں) کوئی ایسی مصیبت آپڑی جس سے دگنی مصیبت تم دوسرے فریق کو (جنگ بدر) میں پہنچا چکے ہو تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آئی ہے کہہ دیجیے یہ تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِيْنَ (3|166)

اور جو دو جماعتوں کی مڈبھیڑ والے دن (جنگ احد میں) تم پر جو مصیبت آئی وہ خدا کے اذن سے آئی تاکہ اللہ دیکھ لے (مخلص) مؤمن کون ہیں۔

وَ لِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِيْمَانِ١ۚ يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُوْنَ (3|167)

اور منافق کون؟ جن سے جب کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو۔ یا (کم از کم) دفاع ہی کرو۔ تو انہوں نے کہا۔ کہ اگر ہمیں علم ہوتا کہ جنگ ہوگی تو تمہارے پیچھے آتے جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے اس وقت وہ بہ نسبت ایمان کے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

اَلَّذِيْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (3|168)

یہی وہ لوگ ہیں جو خود تو (گھروں میں) بیٹھے رہے مگر اپنے (شہید ہونے والے) بھائی بندوں کے بارے میں کہا کہ اگر یہ لوگ ہماری پیروی کرتے (اور جہاد کرنے نہ جاتے) تو مارے نہ جاتے۔ (اے رسول) ان سے کہو۔ کہ اگر تم سچے ہو تو جب خود تمہاری موت آئے تو اسے ٹال کر دکھا دینا۔

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَ (3|169)

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔

فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ يَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ(3|170)

اللہ نے اپنے فضل و کرم سے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ اس پر خوش و خرم ہیں۔ اور اپنے ان پسماندہ گان کے بارے میں بھی جو ہنوز ان کے پاس نہیں پہنچے خوش اور مطمئن ہیں کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہے۔ اور نہ کوئی حزن و ملال ہے۔