لَنْ تَنَالُوا (4)

سورہ آلِ عمران (3)

(141-150)

وَ لِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ يَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ (3|141)

نیز اللہ اس (ابتلا و آزمائش) سے یہ چاہتا تھا کہ خالص اہل ایمان کو چھانٹ کر الگ کر دے اور کافروں کو رفتہ رفتہ مٹا دے۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ يَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ (3|142)

اے مسلمانو!) کیا تم کو یہ خیال ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل ہو جاؤگے حالانکہ ابھی تک اللہ نے (جانچ کر) معلوم ہی نہیں کیا کہ تم میں واقعی مجاہد کون ہیں؟ اور نہ ابھی یہ معلوم کیا ہے کہ صابر اور ثابت قدم کون ہیں؟ ۔

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَيْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ (3|143)

اور تم لوگ موت کا سامنا کرنے سے پہلے تو اس کی بہت تمنا کیا کرتے تھے۔ لو اب تم نے اسے دیکھ لیا۔ اور اب بھی (اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو) (تو پھر اس سے کنّی کیوں کتراتے ہو؟)۔

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيْـًٔا١ؕ وَ سَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ(3|144)

اور حضرت محمد (ص) نہیں ہیں مگر پیغمبر جن سے پہلے تمام پیغمبر گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو تم الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جاؤگے اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور عنقریب خدا شکرگزار بندوں کو جزا دے گا۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِي الشّٰكِرِيْنَ (3|145)

کوئی ذی روح خدا کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا موت کا وقت تو لکھا ہوا (معیّن) ہے اور جو شخص (اپنے اعمال کا) بدلہ دنیا میں چاہتا ہے تو ہم اسی (دنیا) میں دے دیتے ہیں اور جو آخرت میں بدلہ چاہتا ہے تو ہم اسے آخرت میں دیتے ہیں اور ہم عنقریب شکرگزار بندوں کو جزا (خیر) عطا کریں گے۔

وَ كَاَيِّنْ مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ (3|146)

اور بہت سے ایسے نبی (گزر چکے) ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی تو اللہ کی راہ میں ان پر جو مصیبتیں پڑیں ان پر وہ نہ پست ہمت ہوئے اور نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ (دشمن کے سامنے) سرنگوں ہوئے اور اللہ صبر و تحمل رکھنے والے (ثابت قدموں) سے محبت رکھتا ہے۔

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ (3|147)

ایسے مواقع پر) ان کا قول اس (دعا) کے سوا کچھ نہیں تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ اور اپنے کام میں ہماری زیادتی معاف فرما اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمیں کافروں پر فتح و نصرت عطا فرما۔

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (3|148)

تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی صلہ عطا کیا اور آخرت کا بہترین ثواب بھی عنایت فرمایا۔ اور اللہ نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِيْعُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ (3|149)

اے ایمان والو! اگر تم نے ان لوگوں کی اطاعت کی جنہوں نے کفر اختیار کیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پھیر کر لے جائیں گے اور تم بڑا خسارہ اٹھا کر واپس ہوگے۔

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَيْرُ النّٰصِرِيْنَ (3|150)

تمہیں کسی کی اطاعت کی کیا ضرورت ہے) بلکہ تمہارا حامی و سرپرست خدا ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔