وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ (3|131)
اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (3|132)
اور اللہ اور رسول(ص) کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ (3|133)
اور تیزی سے دوڑو اپنے پروردگار کی طرف سے بخشش۔ اور اس کے بہشت کی طرف جس کی چوڑائی تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَ الْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (3|134)
وہ پرہیزگار جو خوشحالی اور بدحالی (غرضیکہ ہر حال میں راہِ خدا میں مال) خرچ کرتے ہیں جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں (کے قصور) معاف کر دیتے ہیں۔ اور اللہ بھلائی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ (3|135)
یہ لوگ اگر (اتفاقاً) کوئی فحش کام (کوئی بڑا برا کام) کر بیٹھیں یا کوئی عام گناہ کرکے اپنے اوپر ظلم کر گذریں تو (فوراً) اللہ کو یاد کرکے اس سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرے اور وہ اپنے کئے پر دیدہ دانستہ اصرار نہیں کرتے ۔
اُولٰٓىِٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ (3|136)
ایسے لوگوں کی جزاء ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت و بخشش ہے اور وہ جنات (باغات) کہ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور کتنا اچھا صلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ (3|137)
تم سے پہلے بہت سے نمونے (اور دور) گزر چکے ہیں سو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ (احکام خداوندی) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟ ۔
هٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِيْنَ (3|138)
یہ (عام) لوگوں کے لیے تو واضح تذکرہ اور تنبیہ ہے اور پرہیزگاروں کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔
وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (3|139)
اے مسلمانو! کمزوری نہ دکھاؤ اور غمگین نہ ہو اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب و برتر ہوگے۔
اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ (3|140)
اگر تمہیں زخم لگا ہے تو اس جیسا زخم ان لوگوں (کافروں) کو بھی (جنگ بدر میں) لگ چکا ہے۔ یہ تو ایام (زمانہ کے اتفاقات اور نشیب و فراز) ہیں جنہیں ہم لوگوں میں باری باری ادلتے بدلتے رہتے ہیں (تمہیں یہ چوٹ اس لئے لگی) کہ خدا (خالص) ایمان والوں کو جان لے۔ اور بعض کو (چھانٹ کر) شہید (گواہ) بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔