قَالَ اَلَمْ (16)

سورۃ الکھف (18)

(75-90)

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا 18|75

خضر (ع) نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِيْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّيْ عُذْرًا 18|76

موسیٰ (ع) نے کہا (اچھا) اگر اس کے بعد آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیں۔ بےشک آپ میری طرف سے عذر کی حد تک پہنچ گئے ہیں (اب آپ معذور ہیں)۔

فَانْطَلَقَا١ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَيَاۤ اَهْلَ قَرْيَةِ ا۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ يُّضَيِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِيْهَا جِدَارًا يُّرِيْدُ اَنْ يَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ اَجْرًا 18|77

اس کے بعد وہ دونوں آگے چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ مگر انہوں نے ان کی مہمانداری کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ان دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا چاہتی تھی۔ تو خضر (ع) نے اسے (بنا کر) سیدھا کھڑا کر دیا۔ (اس پر) موسیٰ (ع) نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام کی (ان لوگوں سے) کچھ اجرت ہی لے لیتے۔

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَيْنِيْ وَ بَيْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِيْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَيْهِ صَبْرًا 18|78

خضر (ع) نے کہا بس (ساتھ ختم ہوا) اب میری اور تمہاری جدائی ہے اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔

اَمَّا السَّفِيْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِيْنَ يَعْمَلُوْنَ فِي الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِيْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ يَّاْخُذُ كُلَّ سَفِيْنَةٍ غَصْبًا 18|79

جہاں تک کشتی کا معاملہ ہے تو وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا پر کام کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار بنا دوں کیونکہ ادھر ایک (ظالم) بادشاہ تھا جو ہر (بے عیب) کشتی پر زبردستی قبضہ کر لیتا تھا۔

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَيْنِ فَخَشِيْنَاۤ اَنْ يُّرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَّ كُفْرًاۚ 18|80

اور جہاں تک اس بچے کا معاملہ ہے تو اس کے ماں باپ مؤمن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ (بڑا ہوکر) ان کو بھی سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ يُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا 18|81

تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کے عوض انہیں ایسی اولاد دے جو پاکیزگی میں اس سے بہتر ہو اور مہر و محبت میں اس سے بڑھ کر ہو۔

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَيْنِ يَتِيْمَيْنِ فِي الْمَدِيْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ يَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ يَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِيْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَيْهِ صَبْرًا٢ 18|82

باقی رہا دیوار کا معاملہ تو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان بچوں کا خزانہ (دفن) تھا۔ اور ان کا باپ نیک آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ بچے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور یہ سب کچھ پروردگار کی رحمت کی بناء پر ہوا ہے۔ اور میں نے جو کچھ کیا ہے اپنی مرضی سے نہیں کیا (بلکہ خدا کے حکم سے کیا) یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔

وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا 18|83

اے رسول(ص)) لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں عنقریب ان کا کچھ حال تمہیں سناتا ہوں۔

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِي الْاَرْضِ وَ اٰتَيْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًاۙ 18|84

ہم نے اسے زمین میں اقتدار عطا کیا تھا اور اسے ہر طرح کا ساز و سامان مہیا کر دیا تھا۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا 18|85

پھر اس نے (ایک مہم کیلئے) ساز و سامان کیا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِيْ عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا يٰذَا الْقَرْنَيْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِيْهِمْ حُسْنًا 18|86

یہاں تک کہ وہ (چلتے چلتے) غروبِ آفتاب کے مقام پر پہنچ گیا تو اسے ایک سیاہ چشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا۔ (محسوس کیا) اور اس کے پاس ایک قوم کو (آباد) پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! (تمہیں اختیار ہے) خواہ انہیں سزا دو یا ان کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا 18|87

ذوالقرنین نے کہا کہ (ہم بے انصافی نہیں کریں گے) جو ظلم و سرکشی کرے گا ہم اسے ضرور سزا دیں گے اور پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف پلٹایا جائے گا تو وہ اسے سخت سزا دے گا۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ ا۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا يُسْرًا 18|88

اور جو کوئی ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کیلئے اچھی جزا ہے۔ اور ہم بھی اس کے ساتھ معاملہ میں نرم بات کریں گے۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا 18|89

پھر اس نے (دوسری مہم کیلئے) ساز و سامان کیا۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ 18|90

یہاں تک کہ (چلتے چلتے) وہ طلوعِ آفتاب کی جگہ پہنچا۔ تو اسے ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتا ہوا پایا کہ جس کیلئے ہم نے سورج کے سامنے کوئی پردہ نہیں رکھا ہے۔