سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ (15)

سورۃ الکھف (18)

(61-74)

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا 18|61

تو جب وہ دونوں ان دونوں دریاؤں کے اکٹھا ہونے کی جگہ پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے اور اس نے دریا میں داخل ہونے کے لئے سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا۔

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا 18|62

جب وہ دونوں وہاں سے آگے بڑھ گئے۔ تو موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا ہمارا صبح کا کھانا (ناشتہ) لاؤ۔ یقینا ہمیں اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانا پڑی ہے۔ (ہم بہت تھک گئے ہیں)۔

قَالَ اَرَءَيْتَ اِذْ اَوَيْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّيْ نَسِيْتُ الْحُوْتَ١ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا 18|63

اس (جوان) نے کہا کیا آپ نے دیکھا تھا؟ کہ جب ہم اس چٹان کے پاس (سستانے کیلئے) ٹھہرے ہوئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا۔ اور شیطان نے مجھے ایسا غافل کیا کہ میں (آپ سے) اس کا ذکر کرنا بھی بھول گیا اور اس نے عجیب طریقہ سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ 18|64

موسیٰ نے کہا یہی تو وہ (مقام) تھا جس کی ہمیں تلاش تھی (اور جسے ہم چاہتے تھے) چنانچہ وہ دونوں اپنے پاؤں کا نشان دیکھتے ہوئے واپس ہوئے۔

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا 18|65

سو انہوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک (خاص) بندہ کو پایا۔ جسے ہم نے اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا۔ اور اسے اپنی طرف سے (خاص) علم عطا کیا تھا۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا 18|66

موسیٰ نے اس سے کہا! کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں بشرطیکہ رشد و ہدایت کا وہ خصوصی علم جو آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں۔

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا 18|67

اس نے (جواب میں) کہا کہ آپ میرے ساتھ (رہ کر) صبر نہیں کر سکتے۔

وَ كَيْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا 18|68

اور بھلا اس بات پر آپ صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جو تمہارے علمی دائرہ سے باہر ہے؟

قَالَ سَتَجِدُنِيْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِيْ لَكَ اَمْرًا 18|69

موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِيْ فَلَا تَسْـَٔلْنِيْ عَنْ شَيْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا 18|70

اس نے کہا کہ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کسی چیز کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کریں۔ جب تک میں خود آپ سے اس کا ذکر نہ کروں۔

فَانْطَلَقَا١ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِي السَّفِيْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا اِمْرًا 18|71

اس کے بعد دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوگئے تو خضر (ع) نے اس میں سوراخ کر دیا۔ موسیٰ نے کہا۔ آپ نے اس لئے کشتی میں سوراخ کیا ہے کہ سب کشتی والوں کو غرق کر دیں؟ آپ نے بڑی عجیب حرکت کی ہے۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا 18|72

خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ صبر نہیں کر سکیں گے؟

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِيْ بِمَا نَسِيْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِيْ مِنْ اَمْرِيْ عُسْرًا 18|73

موسیٰ نے کہا جو بھول ہوگئی اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کریں اور اس معاملہ میں مجھ سے زیادہ سختی نہ کریں۔

فَانْطَلَقَا١ حَتّٰۤى اِذَا لَقِيَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةًۢ بِغَيْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَيْـًٔا نُّكْرًا 18|74

چنانچہ پھر دونوں چل پڑے یہاں تک کہ ایک لڑکے سے ملے تو اس بندہ نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے ایک پاکیزہ نفس (بے گناہ) کو قصاص کے بغیر قتل کر دیا۔ یہ تو آپ نے سخت برا کام کیا۔