قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ 12|71
وہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور (پریشان ہوکر) کہا تم نے کون سی چیز گم کی ہے؟
قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِيْمٌ 12|72
انہوں نے کہا کہ ہم نے بادشاہ کے پینے کا (قیمتی) کٹورا گم کیا ہے اور جو اسے لائے گا اسے ایک بار شتر (غلہ) انعام دیا جائے گا اور میں (منادی) اس بات کا ضامن ہوں۔
قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ 12|73
انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ ہم اس لئے نہیں آئے کہ زمین میں فساد برپا کریں اور نہ ہی ہم چور ہیں۔
قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِيْنَ 12|74
انہوں (ملازمین) نے کہا اگر تم جھوٹے نکلے تو اس (چور) کی سزا کیا ہے؟
قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ 12|75
انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان سے مل جائے وہ خود ہی اس کی سزا ہے ہم اسی طرح ظلم کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔
فَبَدَاَ بِاَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِيْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِيْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ 12|76
تب یوسف (ع) نے اپنے (سگے) بھائی کی خرجین سے پہلے دوسروں کی خرجینوں کی تلاشی لینا شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجین سے وہ گم شدہ کٹورا نکال لیا ہم نے اس طرح (بنیامین کو اپنے پاس رکھنے) کیلئے یوسف کے لیے تدبیر کی کیونکہ وہ (مصر کے) بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہیں لے سکتے تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا ہم جس کے چاہتے ہیں مرتبے بلند کر دیتے ہیں اور ہر صاحبِ علم سے بڑھ کر ایک عالم ہوتا ہے۔
قَالُوْۤا اِنْ يَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِيْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ 12|77
ان لوگوں (برادرانِ یوسف(ع)) نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس پر کیا تعجب اس سے پہلے اس کے ایک حقیقی بھائی نے بھی چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور ان پر ظاہر نہیں کیا (البتہ صرف اتنا) کہا تم بہت ہی برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيْخًا كَبِيْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ 12|78
انہوں نے کہا اے عزیز (مصر) اس کا ایک بہت بوڑھا باپ ہے (وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکے گا) اس لئے اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم آپ کو احسان کرنے والوں میں سے دیکھتے ہیں۔
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ 12|79
یوسف (ع) نے کہا معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) کہ ہم اس آدمی کے سوا جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے کسی اور شخص کو پکڑیں اس صورت میں تو ہم ظالم قرار پائیں گے۔
فَلَمَّا اسْتَيْـَٔسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِيًّا١ؕ قَالَ كَبِيْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَيْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِيْ يُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى يَاْذَنَ لِيْۤ اَبِيْۤ اَوْ يَحْكُمَ اللّٰهُ لِيْ١ۚ وَ هُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ 12|80
پھر جب وہ لوگ اس (یوسف) سے مایوس ہوگئے تو علیٰحدہ جاکر باہم سرگوشی (مشورہ) کرنے لگے جو ان میں (سب سے) بڑا تھا اس نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ (بنیامین کے بارے میں) خدا کے نام پر تم سے عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف(ع) کے بارے میں جو تقصیر تم کر چکے ہو (وہ بھی تم جانتے ہو) اس لئے میں تو اس سر زمین کو نہیں چھوڑوں گا جب تک میرا باپ مجھے اجازت نہ دے یا پھر اللہ میرے لئے کوئی فیصلہ نہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔