وَ مَاۤ اُبَرِّئُ (13)

سورۃ یوسف (12)

(81-90)

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِيْكُمْ فَقُوْلُوْا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ 12|81

لہٰذا تم لوگ اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ۔ اور جاکر کہو اے ہمارے باپ! آپ کے بیٹے (بنیامین) نے چوری کی ہے اور ہم نے اسی بات کی گواہی دی ہے۔ جس کا ہمیں علم ہے اور ہم غیب کی نگہبانی کرنے والے نہیں ہیں (غیبی باتوں کی ہمیں خبر نہیں ہے)۔

وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ 12|82

اور آپ اس بستی (مصر) کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جس میں ہم تھے اور قافلہ والوں سے دریافت کیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں اور بے شک ہم سچے ہیں۔

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَنِيْ بِهِمْ جَمِيْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ 12|83

آپ (ع) نے (یہ قصہ سن کر) کہا (ایسا نہیں ہے) بلکہ تمہارے نفسوں نے یہ بات تمہارے لئے گھڑ لی ہے (اور خوشنما کرکے سجھائی ہے) تو اب (میرے لئے) صبرِ جمیل ہی اولیٰ ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو میرے پاس لائے گا بے شک وہ بڑا علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَ ابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌ 12|84

یہ کہہ کر) ان لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف (ہائے یوسف) اور رنج و غم (کی شدت) سے (رو رو کر) ان کی دونوں آنکھیں سفید ہوگئیں اور وہ (باوجود مصیبت زدہ ہونے) کے بڑے ضبط کرنے والے اور خاموش تھے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِيْنَ 12|85

ان لوگوں (بیٹوں) نے کہا خدا کی قسم معلوم ہوتا ہے کہ آپ برابر یوسف (ع) کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سخت بیمار ہو جائیں گے یا ہلاک ہو جائیں گے۔

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَ حُزْنِيْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 12|86

آپ (ع) نے کہا کہ میں اپنے رنج و غم کی شکایت بس اللہ ہی سے کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَ اَخِيْهِ وَ لَا تَايْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ 12|87

اے میرے بیٹو! (ایک بار پھر مصر) جاؤ اور یوسف (ع) اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو بے شک اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَيْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ 12|88

چنانچہ حسب الحکم) جب یہ لوگ (مصر گئے) اور یوسف (ع) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے اے عزیزِ مصر! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بڑی تکلیف پہنچی ہے (اس لئے اب کی بار) ہم بالکل حقیر سی پونجی لائے ہیں (اسے قبول کریں اور) ہمیں پیمانہ پورا ناپ کر دیجیئے (بھرپور غلہ دیجئے) اور (مزید برآں) ہم کو صدقہ و خیرات بھی دیجئے بے شک اللہ صدقہ خیرات کرنے والوں کو جزاءِ خیر دیتا ہے۔

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَ اَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ 12|89

آپ (ع) نے کہا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے (سگے) بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا جبکہ تم جاہل و نادان تھے؟

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِيْ١ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَ يَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ 12|90

اس پر وہ لوگ چونکے اور کہا کیا تم یوسف ہو؟ کہا ہاں میں یوسف (ع) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان کیا بے شک جو پرہیزگاری اختیار کرتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے (وہ بالآخر ضرور کامیاب ہوتا ہے کیونکہ) اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔