قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ 12|61
ان لوگوں نے کہا کہ ہم اس کے باپ پر ڈورے ڈالیں گے کہ وہ (آمادہ ہو جائیں) اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔
وَ قَالَ لِفِتْيٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِيْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 12|62
اور یوسف نے اپنے جوانوں (غلاموں) سے کہا کہ ان کی پونجی (جس کے عوض غلہ خریدا ہے) ان کے سامان میں رکھ دو۔ تاکہ جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جائیں تو اسے پہچانیں (اور) شاید دوبارہ آئیں۔
فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِيْهِمْ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 12|63
اور جب وہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہا اے ہمارے باپ! ہمارے لئے (ناپ تول کر) غلہ دیا جانا بند کر دیا گیا ہے (جب تک بھائی کو ہمراہ نہ لے جائیں) اس لئے ہمارے بھائی (بنیامین) کو ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ ہم غلہ لا سکیں اور ہم یقیناً اس کی (پوری) حفاظت کریں گے۔
قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ 12|64
آپ (ع) نے کہا کیا میں اس کے بارے میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا؟ بہرحال اللہ سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَيْهِمْ١ؕ قَالُوْا يٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِيْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَيْنَا١ۚ وَ نَمِيْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَيْلٌ يَّسِيْرٌ 12|65
اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کی پونجی انہیں واپس کر دی گئی ہے تو کہنے لگے ابا جان! ہمیں اور کیا چاہیئے؟ (دیکھیے) یہ ہماری پونجی ہے جو ہمیں واپس کر دی گئی ہے (اب کی بار جو بھائی کو اپنے ساتھ لے جائیں گے) تو جہاں اپنے گھر والوں کے لیے رسد لائیں گے اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے (وہاں) ایک اونٹ کا بار اور زیادہ بھی لائیں گے اور یہ غلہ (جو اب کی بار ہم لائے ہیں) بہت تھوڑا ہے
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِيْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ 12|66
آپ (ع) نے کہا میں اسے کبھی تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک اللہ کی قسم کھا کر مجھ سے عہد و پیمان نہ کرو کہ تم اسے ضرور اپنے ساتھ لاؤگے سوا اس کے کہ تم سب ہی گھیر لئے جاؤ (اور بے بس ہو جاؤ) پھر جب انہوں نے قسم کھا کر اپنا قول و قرار دے دیا تو آپ نے کہا اللہ ہمارے قول قرار پر نگہبان ہے۔
وَ قَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ 12|67
اور آپ (ع) نے کہا اے میرے بیٹو (جب مصر پہنچو) تو ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں تمہیں اللہ (کی مشیت اور اس کی قضا و قدر) سے بچا تو نہیں سکتا (ہر قسم کا) حکم (اور فیصلہ) اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی پر سب بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیئے (میں نے تو صرف احتیاط کے طور پر یہ تدبیر بنائی ہے)۔
وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَيْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ يُغْنِيْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِيْ نَفْسِ يَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 12|68
اور جب وہ لوگ (مصر میں) اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا ان کا اس طرح داخل ہونا انہیں خدا (کی مشیت اور اس کی تقدیر) سے بچا تو نہیں سکتا تھا مگر یہ (احتیاطی تدبیر) یعقوب کے دل میں ایک تمنا تھی جسے انہوں نے پورا کر لیا بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے۔
وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّيْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 12|69
اور جب یہ لوگ یوسف (ع) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے (حقیقی) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اور آہستگی سے) کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں بس تو اس پر غمگین نہ ہو جو کچھ یہ لوگ سلوک کرتے رہے ہیں۔
فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِيْ رَحْلِ اَخِيْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ 12|70
پھر جب اس (یوسف) نے ان کا سامان تیار کرایا تو پانی پینے کا کٹورا اپنے (سگے) بھائی کے سامان میں رکھوا دیا پھر ایک منادی نے ندا دی کہ اے قافلہ والو! تم چور ہو۔