عَمَّ (30)

سورۃ المطففین (83)

(21-36)

يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۙ 83|21

جس کامشاہدہ مقرب فرشتے کرتے ہیں۔

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۙ 83|22

بےشک نیکوکار لوگ عیش و آرام میں ہوں گے۔

عَلَى الْاَرَآىِٕكِ يَنْظُرُوْنَۙ 83|23

اونچی مسندوں پر بیٹھ کر دیکھ رہے ہونگے (نظارے کر رہے ہوں گے)۔

تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِۚ 83|24

تم ان کے چہروں پر راحت و آرام کی شادابی محسوس کرو گے۔

يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّخْتُوْمٍ 83|25

انہیں سر بمہر عمدہ شراب (طہور) پلائی جائے گی۔

خِتٰمُهٗ مِسْكٌ١ؕ وَ فِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ 83|26

جس پر مشک کی مہر ہوگی۔ اس چیز میں سبقت لے جانے والوں کو سبقت (اور رغبت) کرنی چاہیے۔

وَ مِزَاجُهٗ مِنْ تَسْنِيْمٍۙ 83|27

اور اس (شراب میں) تسنیم کی آمیزش ہوگی۔

عَيْنًا يَّشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُوْنَ 83|28

یہ وہ چشمہ ہے جس سے مقرب لوگ پئیں گے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ 83|29

بےشک جو مجرم لوگ تھے وہ (دارِ دنیا میں) اہلِ ایمان پر ہنستے تھے۔

وَ اِذَا مَرُّوْا بِهِمْ يَتَغَامَزُوْنَ 83|30

جب ان کے پاس سے گزرتے تھے تو آنکھیں مارا کرتے تھے۔

وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ 83|31

اور جب اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تھے تو دل لگیاں کرتے ہوئے لوٹتے تھے۔

وَ اِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْۤا اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَۙ 83|32

اور جب ان (اہلِ ایمان) کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔

وَ مَاۤ اُرْسِلُوْا عَلَيْهِمْ حٰفِظِيْنَ 83|33

حالانکہ وہ انکے نگران بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔

فَالْيَوْمَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُوْنَۙ 83|34

پس آج اہلِ ایمان کافروں (اور منکروں) پر ہنستے ہوں گے۔

عَلَى الْاَرَآىِٕكِ١ۙ يَنْظُرُوْنَؕ 83|35

اونچی مسندوں پر بیٹھے ہوئے (ان کی حالت) دیکھ رہے ہونگے۔

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 83|36

کیا کافروں کو ان کے کئے ہوئے (کرتوتوں) کا پورا بدلہ مل گیا ہے۔