حٰمٓ (26)

سورۃ ق (50)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِۚ 50|1

ق قسم ہے باعظمت قرآن کی۔

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌۚ 50|2

(پیغمبرِ اسلام (ص) میرے سچے رسول ہیں) لیکن ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا (رسول) ان کے پاس آیا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ 50|3

کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو دوبارہ زندہ ہوں گے) یہ تو بڑی بعید (از عقل) بات ہے۔

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ 50|4

ہم خوب جانتے ہیں (ان اجزاء کو) جو زمین (کھا کر) ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس تو ایک ایسی کتاب ہے جس میں (سب کچھ) محفوظ ہے۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِيْۤ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ 50|5

بلکہ (دراصل بات تو یہ ہے کہ) انہوں نے (دینِ) حق کو جھٹلایا جبکہ وہ ان کے پاس آیا پس وہ ایک الجھی ہوئی بات میں مبتلا ہیں۔

اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنٰهَا وَ زَيَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ 50|6

کیا انہوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے؟ اور آراستہ کیا ہے جس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍۙ 50|7

اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دئیے اور اس میں ہر قِسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ 50|8

ہر اس بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لئے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِيْدِۙ 50|9

اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغات اور کاٹے جانے والی کھیتی کا غلہ اگایا۔

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌۙ 50|10

اور کھجور کے بلند وبالا درخت جن میں تہہ بہ تہہ خوشے لگتے ہیں۔