اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ اَيْنَ شُرَكَآءِيْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيْدٍۚ 41|47
ساعت (قیامت) کا علم اسی (اللہ) کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور کوئی پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے مگر اسی (اللہ) کے علم کے ساتھ اور جس دن وہ (اللہ) ان (مشرکین) کو پکارے گا (اور پوچھے گا کہ)میرے شریک کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ ہم تجھے بتا چکے ہیں (عرض کر چکے ہیں) کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے(اور نہ کوئی ہے)۔
وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ 41|48
اور جن کو وہ پہلے پکارا کرتے تھے وہ سب (اس دن) گم ہو جائیں گے اور وہ سمجھ جائیں گے کہ اب ان کے لئے چھٹکارا نہیں ہے۔
لَا يَسْـَٔمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَيْرِ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَـُٔوْسٌ قَنُوْطٌ 41|49
انسان بھلائی کی دعا کرتے ہوئے نہیں تھکتا اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو ایکدم بالکل مایوس و ناامید ہو جاتا ہے۔
وَ لَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُوْلَنَّ هٰذَا لِيْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّ لَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْۤ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى ١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ۠ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ 41|50
اور اگر ہم اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچتی تھی اپنی رحمت کامزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ کہتا ہے یہ تو میرے ہی لئے ہے (میں اس کامستحق ہوں) نیز کہتا ہے کہ میں خیال نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف کبھی لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میرے لئے اس کے ہاں بھی بہتری ہوگی ہم کافروں کو ضرور ان کے ان اعمال سے آگاہ کریں گے جو وہ کرتے رہے اور انہیں سخت عذاب کامزہ چکھائیں گے۔
وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِيْضٍ 41|51
اور جب ہم انسان کو کوئی کچھ نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ (تکبر سے)منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرنے لگتا ہے اورجب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔
قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِيْ شِقَاقٍۭ بَعِيْدٍ 41|52
آپ(ص) کہہ دیجئے! اے کافرو! تم(غور کر کے)مجھے بتاؤ کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہے پھر تم نے اس کا انکار کیا تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو مخالفت میں بہت دور نکل جائے؟
سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ 41|53
ہم انہیں نشانیاں دکھائیں گے آفاق و کائنات میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہ (اللہ) بالکل حق ہے۔ کیا تمہارے پروردگار کے لئے یہ امر کافی نہیں ہے کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے۔
اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيْطٌ 41|54
یاد رکھو۔ یہ لوگ اپنے پروردگارکی بارگاہ میں حاضری و حضوری کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں آگاہ ہو جاؤ کہ وہ (اللہ) ہر چیز کااحاطہ کئے ہوئے ہے۔