وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا (4|61)
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے (قرآن) اور آؤ رسول (سنت) کی طرف تو آپ منافقین کو دیکھیں گے کہ وہ آپ سے بڑی سخت روگردانی کرتے ہیں۔
فَكَيْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ يَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِيْقًا (4|62)
پھر کیسی گزرتی ہے جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی (ان کے کرتوتوں کی وجہ سے) تو آپ کی خدمت میں اللہ کے نام کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو بھلائی اور (فریقین میں) مصالحت کرانا تھا۔
اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ يَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِيْغًا (4|63)
یہ وہ ہیں کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے آپ ان سے چشم پوشی کریں اور انہیں نصیحت کریں اور ان سے مؤثر باتیں کریں۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا (4|64)
اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے کاش جب یہ لوگ (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے اگر آپ کے پاس آجاتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے تو یقینا اللہ کو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا مہربان پاتے۔
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (4|65)
نہیں۔ آپ کے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے۔ جب تک اپنے تمام باہمی جھگڑوں میں آپ کو حَکَم نہ مانیں۔ اور پھر آپ جو فیصلہ کریں (زبان سے اعتراض کرنا تو کجا) اپنے دلوں میں بھی تنگی محسوس نہ کریں اور اس طرح تسلیم کریں جس طرح تسلیم کرنے کا حق ہے۔
وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا يُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِيْتًا (4|66)
اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو۔ یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ۔ تو اس پر معدودے چند لوگوں کے سوا اور کوئی عمل نہ کرتا اور اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے، جو ان کو کی جاتی ہے، تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ اور ثابت قدمی کا زیادہ موجب ہوتا۔
وَّ اِذًا لَّاٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِيْمًا (4|67)
اور اس وقت ہم انہیں اپنی طرف سے بڑا اجر دیتے۔
وَّ لَهَدَيْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا (4|68)
اور انہیں سیدھے راستہ پر چلنے کی خاص توفیق عطا کرتے۔
وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا (4|69)
جو اللہ اور رسول(ص) کی اطاعت کرے گا۔ تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے خاص انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہ بہت اچھے رفیق ہیں۔
ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيْمًا (4|70)
یہ اللہ کا خاص فضل ہے اور اللہ کا علم کافی ہے۔