وَالْمُحْصَنٰتُ (5)

سورۃ النساء (4)

(101-110)

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِيْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِيْنًا (4|101)

اور جب تم زمین میں سفر کرو۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے (بلکہ واجب ہے کہ) نماز میں قصر کر دو۔ (بالخصوص) جب تمہیں خوف ہو کہ کافر لوگ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائیں گے۔ بے شک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔

وَ اِذَا كُنْتَ فِيْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآىِٕفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْيَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْيَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآىِٕكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآىِٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ يُصَلُّوْا فَلْيُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْيَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيْلُوْنَ عَلَيْكُمْ مَّيْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا (4|102)

اے رسول(ص) جب آپ(ص) ان (مسلمانوں) میں ہوں اور انہیں نماز (باجماعت) پڑھانے لگیں تو چاہیے کہ ان کا ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔ اور وہ لوگ اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ اور جب یہ سجدہ کر چکیں (نماز پڑھ چکیں) تو یہ (پشت پناہی کے لیے) تمہارے پیچھے چلے جائیں اور پھر وہ دوسرا گروہ جس نے ہنوز نماز نہیں پڑھی ہے۔ آجائے اور آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔ اور چوکنا رہے اور اپنا اسلحہ لئے رہے، کفار کی تو یہ خواہش ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سازوسامان سے (ذرا) غافل ہو جاؤ اور وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اور اگر تمہیں بارش سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں کو رکھ دو۔ ہاں اپنی حفاظت کا خیال رکھو (چوکنا رہو) بے شک اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا (4|103)

پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ہوئے، بیٹھے ہوئے، اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہوئے) اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے تو نماز کو پورے طور پر ادا کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر پابندی وقت کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔

وَ لَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ يَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا (4|104)

اس (مخالف) جماعت کی تلاش اور تعاقب میں سستی نہ دکھاؤ۔ اگر اس میں تمہیں تکلیف پہنچتی ہے۔ تو انہیں بھی اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے۔ جس طرح تمہیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے اس چیز (ثواب) کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا (4|105)

بے شک ہم نے (یہ) کتاب حق کے ساتھ آپ پر اتاری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے اور آپ خیانت کاروں کے طرفدار نہ بنیں۔

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (4|106)

اور اللہ سے مغفرت طلب کریں، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِيْنَ يَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِيْمً (4|107)

اور جو لوگ اپنی ذات سے خیانت کرتے ہیں۔ آپ ان کی وکالت نہ کریں۔ بے شک اللہ اسے دوست نہیں رکھتا، جو بڑا خیانت کار اور بڑا گنہگار ہے۔

يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطًا (4|108)

یہ لوگ (اپنی حرکات) لوگوں سے تو چھپا سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے، کیونکہ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے، جب وہ راتوں کو اس کی پسند کے خلاف گفتگوئیں (مشورے) کرتے ہیں اور وہ جو کچھ کرتے ہیں۔ اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١۫ فَمَنْ يُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَمْ مَّنْ يَّكُوْنُ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا (4|109)

اے مسلمانو!) یہ تم ہو جو دنیاوی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑتے ہو (ان کی طرفداری کرتے ہو)۔ تو قیامت کے دن ان کی طرف سے خدا سے کون بحث کرے گا؟ یا کون ان کا وکیل (نمائندہ) ہوگا؟ ۔

وَ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (4|110)

اور جو کوئی برائی کرے یا قبیح کام کرے یا کوئی اپنے اوپر ظلم کرے (گناہ کا ارتکاب کرے) پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے، تو وہ اللہ کو بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا پائے گا۔