وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ الصّافّات (37)

(91-100)

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ 37|91

پس چپکے سے ان کے دیوتاؤں کی طرف گئے اور (ان سے) کہا کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ 37|92

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم بولتے بھی نہیں ہو۔

فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْيَمِيْنِ 37|93

پھر ان پر پَل پڑے اور اپنے دائیں ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں۔

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَيْهِ يَزِفُّوْنَ 37|94

پھر وہ لوگ دوڑتے ہوئے ان (ابراہیم(ع)) کے پاس آئے۔

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَ 37|95

آپ(ع) نے کہا کیا تم ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جنہیں خود تراشتے ہو؟

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ 37|96

حالانکہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جو تم بناتے ہو۔

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْيَانًا فَاَلْقُوْهُ فِي الْجَحِيْمِ 37|97

ان لوگوں نے کہا کہ ان کیلئے ایک آتش کدہ بناؤ اور اسے دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دو۔

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِيْنَ 37|98

سو انہوں نے آپ(ع) کے خلاف چال چلنا چاہی مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا۔

وَ قَالَ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ 37|99

آپ(ع) نے فرمایا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں وہ میری راہنمائی فرمائے گا۔

رَبِّ هَبْ لِيْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ 37|100

اور عرض کیا) اے میرے پروردگار مجھے ایک بیٹا عطا فرما جو صالحین میں سے ہو۔