وَ مَا لِيَ (23)

سورۃ الصّافّات (37)

(1-10)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ 37|1

باقاعدہ طور پر صف باندھنے والی ہستیوں کی قسم۔

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ 37|2

برائی سے) جھڑکنے (اور) ڈانٹنے والی ہستیوں کی قسم۔

فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًاۙ 37|3

پھر ذکر (قرآن) کی تلاوت کرنے والی ہستیوں کی قسم۔

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ 37|4

تمہارا الٰہ (خدا) ایک ہی ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ 37|5

جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (سب کا) پروردگار ہے اور مشرقوں کا۔

اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِ ا۟لْكَوَاكِبِۙ 37|6

بے شک ہم نے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی آرائش سے آراستہ کیا ہے۔

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِد 37|7

اور ہر سرکش و شیطان کی (دراندازی سے اسے) محفوظ کر دیا ہے۔

لَا يَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ يُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗ 37|8

اب) ملاءِ اعلیٰ (عالمِ بالا) کی باتوں کو کان لگا کر نہیں سن سکتے اور وہ ہر طرف سے مارے جاتے ہیں۔

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ 37|9

ان کو) دھتکارنے (اور بھگانے) کیلئے اور ان کیلئے دائمی عذاب ہے۔

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ 37|10

مگر یہ کہ کوئی شیطان (فرشتوں کی) کوئی اڑتی ہوئی خبر اچک لے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔