بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًاۙ 33|1
اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہیں اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کریں۔ بے شک اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔
وَّ اتَّبِعْ مَا يُوْحٰۤى اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًاۙ 33|2
اور جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کو وحی کی جاتی ہے اس کی پیروی کریں بے شک تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔
وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا 33|3
اور آپ اپنے پروردگار پر توکل کریں بے شک اللہ تعالیٰ کارسازی کیلئے کافی ہے۔
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔيْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِيَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ يَهْدِي السَّبِيْلَ 33|4
اور اللہ نے کسی مرد کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے اور نہ ہی تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کرتے ہو اور نہ ہی اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (حقیقی) بیٹا بنایا ہے اور وہی (سیدھے) راستے کی ہدایت کرتا ہے۔
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ وَ مَوَالِيْكُمْ١ؕ وَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 33|5
ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے (حقیقی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرینِ انصاف ہے اور اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم نہ ہو تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور تم سے جو بھول چوک ہو جائے اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہاں البتہ (گناہ اس پر ہے) جو تم دل سے ارادہ کرکے کرو۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے۔
اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِيٰٓىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا 33|6
نبی مؤمنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق (تصرف) رکھتے ہیں۔ اور آپ کی بیویاں ان (مؤمنین) کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ کی رو سے رشتہ دار بہ نسبت عام مؤمنین و مہاجرین کے (وراثت میں) ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے۔
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّٖنَ مِيْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًاۙ 33|7
اور وہ وقت یاد کرو۔ جب ہم نے نبیوں سے عہد و پیمان لیا تھا اور آپ سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے بھی اور ہم نے ان سب سے سخت عہد لیا تھا۔
لِّيَسْـَٔلَ الصّٰدِقِيْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا اَلِيْمًا 33|8
تاکہ وہ (پروردگار) ان سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے متعلق سوال کرے اور اس نے کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرًا 33|9
اے ایمان والو! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے جب (کفار کے) لشکر تم پر چڑھ آئے اور ہم نے (تمہاری مدد کیلئے) ان پر ہوا (آندھی) بھیجی اور (فرشتوں کے) ایسے لشکر بھیجے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور جو کچھ تم کر رہے تھے۔ اللہ اسے خوب دیکھ رہا تھا۔
اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا 33|10
جب وہ تم پر اوپر اور نیچے سے چڑھ آئے اور (شدتِ خوف سے) آنکھیں پتھرا گئیں اور دل (کلیجے) منہ کو آگئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔