فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ (3|61)
اے پیغمبر(ص)) اس معاملہ میں تمہارے پاس صحیح علم آجانے کے بعد جو آپ سے حجت بازی کرے تو آپ ان سے کہیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے بیٹوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر مباہلہ کریں (بارگاہِ خدا میں دعا و التجا کریں) اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔ (یعنی ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں تم اپنے نفسوں کو پھر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں)۔
اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (3|62)
جناب عیسیٰ کی) یہ برحق سرگزشت ہے (وہ خدا یا خدا کے بیٹے نہیں بلکہ اس کے خاص بندے ہیں) اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے وہ توانا اور بڑا حکمت والا ہے۔
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِالْمُفْسِدِيْنَ (3|63)
اب اس کے بعد بھی یہ لوگ انحراف کریں تو خدا مفسدین کو خوب جانتا ہے۔
قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْـًٔا وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (3|64)
اے رسول) کہیے اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک اور یکساں ہے (اور وہ یہ کہ) ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب (مالک و مختار) نہ بنائے۔ اور اگر یہ لوگ اس (دعوت) سے منہ موڑیں تو (اے مسلمانو) تم کہہ دو کہ گواہ رہنا ہم مسلمان (خدا کے فرمانبردار و اطاعت گزار ہیں)۔
يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِيْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (3|65)
اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں (ہم سے) حجت بازی کرتے ہو۔ حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں کیا تم میں اتنی بھی عقل (سمجھ) نہیں ہے۔
هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِيْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِيْمَا لَيْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (3|66)
تم وہی لوگ ہو۔ جو (ہم سے) ان باتوں کے بارے میں بحث و تکرار کرتے رہے جن کا تمہیں کچھ علم تھا۔ اب ان باتوں کے بارے میں کیوں حجت بازی کرتے ہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں (حقیقت حال) صرف اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّ لَا نَصْرَانِيًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (3|67)
ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو نرے کھرے خالص مسلمان (خدا کے فرمانبردار بندے) تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِيُّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ (3|68)
بے شک تمام لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ قریب اور زیادہ تعلق رکھنے والے وہ ہیں جنہوں نے اُن کی پیروی کی اور یہ نبی اور وہ جو (ان پر) ایمان لائے ہیں اور اللہ ایمان والوں کا ساتھی و سرپرست ہے۔
وَدَّتْ طَّآىِٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا يُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ (3|69)
اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کر سکے حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو بھی گمراہ نہیں کرتے مگر انہیں اس کا شعور نہیں۔
يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ (3|70)
اے اہل کتاب تم آیاتِ الٰہیہ کا کیوں انکار کرتے ہو؟ حالانکہ تم خود گواہ ہو (کہ وہ آیاتِ الٰہیہ ہیں) اور برحق ہیں۔