تِلْكَ الرُّسُلُ(3)

سورہ آلِ عمران (3)

(51-60)

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ (3|51)

بے شک اللہ میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس تم اس کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِيْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (3|52)

پھر جب عیسیٰ نے ان (بنی اسرائیل) کی طرف سے کفر و انکار محسوس کیا۔ تو کہا کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان (فرمانبردار) ہیں۔

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ (3|53)

اور کہا اے ہمارے پروردگار جو کچھ تو نے نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول (عیسیٰ) کی پیروی اختیار کی۔ لہٰذا ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں (کے دفتر) میں درج فرما۔

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ (3|54)

انہوں (بنی اسرائیل) نے (عیسیٰ کے خلاف) مکاری کی اور اللہ نے بھی اپنی (جوابی) تدبیر و ترکیب کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر و ترکیب کرنے والا ہے۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (3|55)

اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا (اے عیسیٰ) میں تمہیں پورا قبض کرنے والا اور تمہیں اپنی جانب اٹھانے والا ہوں اور تمہیں کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تمہاری پیروی کرنے والوں کو کافروں پر قیامت تک غالب اور برتر کرنے والا ہوں۔ پھر تم سب کی بازگشت میری طرف ہے تو اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ (3|56)

تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انہیں دنیا و آخرت میں سخت سزا دوں گا۔ اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔

وَ اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ (3|57)

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو خدا ان کو پورا پورا اجر و ثواب دے گا۔ اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَيْكَ مِنَ الْاٰيٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِيْمِ (3|58)

اے رسول) یہ جو ہم آپ کو پڑھ کر سنا رہے ہیں (کتابِ الٰہی کی) آیات ہیں (یا خدا کی قدرت اور آپ کی حقانیت کی نشانیاں ہیں) اور وہ دانائی سے لبریز تذکرے ہیں۔

اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (3|59)

بے شک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا پھر حکم دیا کہ ہو جا سو وہ ہوگیا۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ (3|60)

یہ بات تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔