وَ قَالَ الَّذِيْنَ (19)

سورۃ الشعراء (26)

(121-130)

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 26|121

بےشک اس میں ایک بڑی نشانی ہے (مگر) ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لانے والے ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ 26|122

اور آپ کا پروردگار بڑا غالب ہے، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

كَذَّبَتْ عَادُ ا۟لْمُرْسَلِيْنَ۠ۚۖ 26|123

اسی طرح قوم) عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ 26|124

جبکہ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ 26|125

بےشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِۚ 26|126

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ 26|127

اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ 26|128

کیا تم ہر بلندی پر بے فائدہ ایک یادگار تعمیر کرتے ہو؟

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ 26|129

اور تم بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو شاید کہ تم ہمیشہ زندہ رہوگے۔

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَۚ 26|130

اور جب تم کسی پر حملہ کرتے ہو تو جبار و سرکش بن کر حملہ کرتے ہو؟