قَالَ اَلَمْ (16)

سورۃ طٰہٰ (20)

(121-135)

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِيْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى 20|131

اور جو کچھ ہم نے مختلف لوگوں کو آزمائش کیلئے دنیا کی زیب و زینت اور آرائش دے رکھی ہے اس کی طرف نگاہیں اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اور آپ کے پروردگار کا دیا ہوا رزق بہتر ہے اور زیادہ پائیدار ہے۔

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا١ؕ لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى 20|132

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیں اور خود بھی اس پر قائم و برقرار رہیں ہم آپ سے روزی طلب نہیں کرتے۔ ہم تو خود آپ کو روزی دیتے ہیں اور انجام بخیر تو پرہیزگاری کا ہی ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا يَاْتِيْنَا بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَيِّنَةُ مَا فِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى 20|133

اور یہ لوگ (اہل مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (رسول) ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتے۔ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کا کھلا ہوا ثبوت نہیں آیا؟

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى 20|134

اور اگر ہم اس (رسول) سے پہلے انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یہ کہتے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرتے۔

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِيِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى 20|135

آپ کہہ دیجئے! کہ ہر ایک اپنے (انجام کا) انتظار کر رہا ہے سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں؟ اور ہدایت یافتہ کون ہیں۔