بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْٓـَٔتُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (2|81)
کیوں نہیں (چھوئے گی) جو بھی برا کام کرے گا اور اس کا گناہ (چاروں طرف سے) اسے گھیر لے گا یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (2|82)
اور جو لوگ ایمان لائے اور (اس کے ساتھ ساتھ) نیک عمل بھی کئے یہی لوگ بہشتی ہیں جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِي الْقُرْبٰى وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ (2|83)
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔ ماں باپ سے (خصوصاً) رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے (عموماً) نیک سلوک کرنا اور سب سے اچھی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ مگر تم میں سے تھوڑے آدمیوں کے سوا باقی سب اس (عہد) سے پھر گئے۔ اور تم ہو ہی روگردانی کرنے والے۔
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ (2|84)
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا، ایک دوسرے کو اپنے وطن سے (نکال کر) بے وطن نہ کرنا۔ پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم خود اس کے گواہ ہو۔
ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِيْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِهِمْ١ تَظٰهَرُوْنَ عَلَيْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (2|85)
پھر تم ہی وہ ہو۔ جو اپنوں کو قتل کرتے ہو۔ اور اپنے بھائی بندوں کے کچھ لوگوں کو ان کے وطن سے نکال بھی دیتے ہو اور ان کے خلاف گناہ اور ظلم و زیادتی کے ساتھ سازش کرتے ہو اور جتھے بندی کرتے ہو (ان کے مخالفین کی مدد کرتے ہو) اور (پھر لطف یہ ہے کہ) اگر وہی لوگ دشمنوں کے ہاتھوں قید ہو کر تمہارے پاس آجائیں۔ تو تم ہی فدیہ دے کر انہیں چھڑا لیتے ہو۔ حالانکہ ان کا وطن سے نکالنا تم پر حرام تھا۔ کیا تم کتاب (توراۃ) کے ایک حصہ (فدیہ دینے) پر ایمان لاتے ہو۔ اور دوسرے حصہ (جلا وطن کرنے کی حرمت) کا انکار کرتے ہو؟ تم میں سے جو ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو اور قیامت کے دن سخت ترین عذاب کی طرف لوٹا دیئے جائیں اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے غافل (بے خبر) نہیں ہے۔
اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ١ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ (2|86)
یہ وہ (بدقسمت) لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کی (ابدی زندگی) کے عوض دنیوی (فانی) زندگی خرید لی ہے پس نہ ہی ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔
وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١ وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَ اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ وَ فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ (2|87)
البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب (توراۃ) عطا کی۔ اور ان کے بعد ہم نے پے در پے رسول بھیجے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس کے ذریعہ سے ان کی تائید کی۔ (اس کے باوجود) جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفسی کے خلاف کوئی حکم لے کر تمہارے پاس آیا تو تم نے تکبر کیا سو بعض کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کر ڈالا۔
وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ (2|88)
اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر (قدرتی) غلاف چڑھے ہوئے ہیں (ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آتا)۔ نہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے (اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے) اس لئے وہ کم ہی ایمان لائیں گے۔
وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ (2|89)
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی جو ان کے پاس والی کتاب (توراۃ) کی تصدیق کرتی ہے باوجودیکہ اس کے آنے سے پہلے خود یہ لوگ کافروں کے خلاف اس کے ذریعہ سے فتح و ظفر طلب کیا کرتے تھے۔ مگر جب وہ (کتاب) ان کے پاس آگئی جسے وہ پہچانتے تھے تو اس کا انکار کر دیا۔ پس کافروں (منکروں) پر اللہ کی لعنت ہو۔
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ (2|90)
سو کس قدر بری ہے وہ چیز جس کے عوض ان لوگوں نے اپنی جانوں کا سودا کیا ہے کہ محض اس ضد اور سرکشی کی بناء پر اللہ کی نازل کردہ کتاب کا انکار کر دیا کہ اس نے اپنے بندوں میں سے ایک خاص بندہ (نبی خاتم (ع)) پر اپنے فضل و کرم سے کیوں (وحی نبوت و کتاب) نازل کر دی؟ پس وہ اس روش کے نتیجہ میں (خدا کے) غضب بالائے غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہے۔