الم (1)

سورۃ البقرہ (2)

(71-80)

قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِي الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيْهَا١ؕ قَالُوا الْـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ (2|71)

موسیٰ نے) کہا وہ (پروردگار) فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جو سدھائی ہوئی نہیں ہے۔ نہ زمین کو جوتتی ہے اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہے۔ وہ صحیح سالم اور بے عیب ہے (اور ایسی یک رنگی ہے کہ) اس میں کوئی داغ دھبہ نہیں ہے اس پر پکار اٹھے اب آپ ٹھیک بات لائے غرض اب انہوں نے اسے ذبح کیا جبکہ وہ ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے۔

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِيْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ (2|72)

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا۔ اور پھر اس کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے (ایک دوسرے پر قتل کا الزام لگانے لگے) اور اللہ اس چیز کو ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ يُحْيِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى ١ۙ وَ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (2|73)

اس لئے) ہم نے کہا کہ اس گائے کا کوئی ٹکڑا اس (مقتول کی لاش) پر مارو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے۔ اور تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (2|74)

اے بنی اسرائیل) پھر اس کے بعد تمہارے دل ایسے سخت ہوگئے کہ گویا وہ پتھر ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت کیونکہ پتھروں میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو خدا کے خوف و خشیہ سے گر پڑتے ہیں۔ اور تم لوگ جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے غافل (بے خبر) نہیں ہے۔

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ (2|75)

اے مسلمانو) کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہارے کہنے سے ایمان لائیں گے حالانکہ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی گزرا ہے جو اللہ کا کلام سنتا تھا اور پھر اسے سمجھنے کے بعد دیدہ و دانستہ اس میں تحریف (رد و بدل) کر دیتا تھا۔

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (2|76)

اور (یہ منافق لوگ) جب اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لائے ہیں اور جب آپس میں تنہا ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیا تم ان (مسلمانوں) کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے (توراۃ میں) تم پر ظاہر کی ہیں۔ تاکہ وہ انہیں تمہارے پروردگار کے حضور تمہارے خلاف بطور حجت پیش کریں۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

اَوَ لَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ (2|77)

کہا یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔

وَ مِنْهُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِيَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ (2|78)

اور ان (یہود) میں کچھ ایسے ان پڑھ بھی ہیں جو بے بنیاد امیدوں اور جھوٹی آرزوؤں کے سوا کتاب (توراۃ) کا کچھ بھی علم نہیں رکھتے۔ اور وہ صرف خام خیالیوں میں پڑے رہتے ہیں۔

فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ١ۗ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَ وَيْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ (2|79)

سو خرابی و بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے (جعلی) کتاب (تحریر) لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے (آئی) ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت (دنیوی فائدہ) حاصل کریں پس خرابی ہے ان کے لئے ان کے ہاتھوں کی لکھائی پر اور بربادی ہے۔ ان کے لئے ان کی اس کمائی پر ۔

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (2|80)

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ گنتی کے چند دنوں کے سوا دوزخ کی آگ ہمیں چھو بھی نہیں سکتی (اے رسول) آپ ان سے کہیے! کیا تم نے خدا سے کوئی عہد و پیمان لے لیا ہے کہ خدا کبھی اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا؟ یا اللہ کے ذمہ وہ بات لگا رہے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔