سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(221-230)

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ يَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ يُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (2|221)

اے مسلمانو!) خبردار مشرک عورتوں سے اس وقت تک نکاح نہ کرو۔ جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ (کیونکہ) ایک مؤمنہ کنیز مشرکہ (آزاد عورت) سے اچھی ہے اگرچہ (حسن و جمال میں) تمہیں کتنی ہی بھلی معلوم ہو۔ اور مشرک مردوں کے نکاح میں اس وقت تک نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ بے شک مسلمان غلام مشرک (آزاد شوہر) سے بہتر ہے۔ اگرچہ وہ (مشرک) تمہیں کتنا ہی بھلا معلوم ہو۔ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور خدا اپنے حکم سے (تمہیں) جنت اور مغفرت (بخشش) کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے احکام کو لوگوں کے سامنے واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں (اثر لیں)۔

وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى ١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِي الْمَحِيْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى يَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (2|222)

اور لوگ آپ سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے، لہٰذا تم ایامِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں اس وقت تک ان کے نزدیک نہ جاؤ۔ پھر جب وہ طہارت کر لیں تو جدھر سے خدا نے حکم دیا ہے ان کے پاس جاؤ۔ بے شک اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور طہارت کرنے والوں کو۔

نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ (2|223)

تمہاری عورتیں کھیتی ہیں۔ (اس لئے) اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ۔ اور اپنے لئے (خدا کی بارگاہ میں) پیشگی (اعمال) بھیج دو۔ اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تمہیں اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور ایمان والوں کو خوشخبری (مبارکباد) دے دو

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (2|224)

اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ تاکہ تم نیکوکار، پرہیزگار بن سکو۔ اور لوگوں میں صلح کرا سکو اور اللہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِيْۤ اَيْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ (2|225)

خدا تمہاری لایعنی (غیر ارادی) قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ لیکن جو قسمیں تم دل سے کروگے (کھاؤ گے) اس کا مواخذہ کرے گا اور خدا بڑا بخشنے والا اور بڑا برداشت کرنے والا ہے۔

لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (2|226)

جو لوگ اپنی بیویوں سے الگ رہنے (مباشرت نہ کرنے) کی قسم کھا لیتے ہیں (ان کے لیے) چار مہینے کی مہلت ہے۔ پس اگر اس کے بعد (اپنی قسم سے) رجوع کریں تو بے شک خدا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (2|227)

ور وہ اگر طلاق دینے کا ہی عزم بالجزم کر لیں تو بے شک خدا (سب کچھ) سننے اور جاننے والا ہے۔

وَ الْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (2|228)

اور جن عورتوں کو طلاق دی جائے تو وہ اپنے آپ کو (عقد ثانی) سے روکیں۔ تین مرتبہ ایام ماہواری سے پاک ہونے تک۔ اور اگر وہ خدا اور روزِ جزاء پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اسے چھپائیں۔ جوکہ خدا نے ان کے رحموں (شکموں) میں پیدا کیا ہے۔ اور اس دوران ان کے شوہر اگر تعلقات بحال کرنا چاہیں تو وہ انہیں واپس بلانے (اور اپنی زوجیت میں رکھنے کے) زیادہ حقدار ہیں اور اس دوران دستورِ شریعت کے مطابق عورتوں کے کچھ حقوق ہیں جس طرح کہ مردوں کے حقوق ہیں ہاں البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت ہے۔ خدا زبردست (حاکم) اور حکمت والا ہے۔

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ (2|229)

اور طلاق (رجعی) دو ہی مرتبہ ہے اس کے بعد یا تو اچھے طریقہ سے روک لیا جائے گا یا بھلائی کے ساتھ رخصت کر دیا جائے گا۔ اور تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ انہیں (بطورِ زر مہر اور ہدیہ و تحفہ) دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو مگر یہ کہ ان دونوں (میاں بیوی) کو اندیشہ ہو کہ وہ خدا کی قائم کردہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو پھر (اے مسلمانو!) تمہیں بھی یہ خوف ہو کہ وہ حدودِ الٰہیہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو (اس صورت میں) عورت کو (بطورِ فدیہ خلع) کچھ معاوضہ دینا چاہیے (اور دے کر اپنی جان چھڑانا چاہیے) تو اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ یہ خدا کی مقرر کردہ حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو۔ اور جو لوگ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے بڑھتے ہیں وہی لوگ ظالم ہیں۔

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ١ ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (2|230)

اب اگر (تیسری بار) طلاق (بائن) دے تو اس کے بعد (یہ عورت) اس مرد کے لئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرے۔ اب جب کہ وہ (دوسرا شوہر) اسے طلاق دے دے اور ان دونوں سابقہ میاں بیوی کا خیال ہو کہ وہ حدودِ الٰہیہ کو برقرار رکھ سکیں گے تو ان کے لئے کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ آپس میں (دوبارہ) شادی کر لیں۔ یہ خدا کی مقرر کردہ حدیں ہیں جنہیں وہ صاحبانِ علم کے لئے واضح طور پر بیان کرتا ہے۔