سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(211-220)

سَلْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ كَمْ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ اٰيَةٍۭ بَيِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ يُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (2|211)

اے رسول) بنو اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو انبیاء کے ذریعے کس قدر کھلی ہوئی نشانیاں عنایت کیں اور جو (شخص و قوم) خدا کی نعمت کو اس کے پاس آجانے کے بعد بدل ڈالے (اسے برائی میں صرف کرے) تو خدا سخت عذاب والا ہے۔

زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَ يَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (2|212)

جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لئے زندگانی دنیا بڑی آراستہ کر دی گئی ہے۔ اور وہ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حالانکہ جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی وہ قیامت کے دن ان لوگوں (کافروں) سے بہت بلند مقام پر ہوں گے اور خدا جسے چاہتا ہے بے حساب روزی عطا کرتا ہے۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (2|213)

پہلے) سب انسان ایک ہی دین (فطرت) پر تھے، (پھر جب ان میں باہمی اختلاف پیدا ہوئے) تو خدا نے انبیاء بھیجے۔ (جو نیکوکاروں کو) خوشخبری دینے والے (اور بدکاروں) کو ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی (جس میں قانون تھا)۔ تاکہ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کرے اور یہ اختلاف انہی لوگوں نے کیا جن کو وہ (کتاب) دی گئی تھی اور وہ بھی تب کہ جب کھلی ہوئی دلیلیں ان کے سامنے آچکی تھیں۔ محض بغاوت اور زیادتی کی بنا پر۔ تو خدا نے اپنے حکم سے ایمان والوں کو ان اختلافی باتوں میں راہِ حق کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اور خدا جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (2|214)

کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم یوں ہی جنت میں داخل ہو جاؤگے حالانکہ ابھی تک تمہارے سامنے تم سے پہلے گزرے ہوئے (اہل ایمان) کی سی صورتیں (اور شکلیں) آئی ہی نہیں۔ جنہیں فقر و فاقہ اور سختیوں نے گھیر لیا تھا۔ اور انہیں (تکلیف و مصائب کے) اس قدر جھٹکے دیئے گئے کہ خود رسول اور ان پر ایمان لانے والے کہہ اٹھے کہ آخر اللہ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کی مدد یقینا نزدیک ہی ہے۔

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا يُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَ الْاَقْرَبِيْنَ وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ (2|215)

لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ (راہِ خدا میں) کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے! کہ تم جو مال بھی صرف کرو (اس میں تمہارے) ماں باپ کے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے اور تم جو بھی نیک کام کرو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَيْـًٔا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (2|216)

اے مسلمانو!) تم پر جنگ کرنا فرض کیا گیا ہے جب کہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ اور یہ ممکن ہے کہ جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے لئے اچھی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس چیز کو تم پسند کرتے ہو وہ تمہارے لئے بری ہو (اچھی نہ ہو) اصل بات یہ ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (2|217)

مشرک) لوگ آپ سے حرمت والے مہینے میں جنگ کرنے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دیجیے اس میں جنگ کرنا بڑا جرم ہے (مگر) خدا کی راہ سے روکنا، اور اس کا انکار کرنا اور مسجد (کی حرمت) کا انکار کرنا (اور لوگوں کو اس سے روکنا) اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکالنا۔ خدا کے نزدیک اس (جنگ) سے بھی بڑا جرم ہے۔ اور فتنہ گری قتل سے بھی زیادہ سنگین گناہ ہے۔ اور وہ لوگ برابر تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ تمہیں تمہارے دین سے ہی پلٹا دیں۔ (مگر یاد رکھو) کہ تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پھر کر کفر کی حالت میں مرے گا۔ تو یہ وہ بدنصیب لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں رائیگاں ہو جائیں گے۔ یہی لوگ دوزخی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (2|218)

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور خدا کی راہ میں جہاد کیا یہ ہیں وہ لوگ جو خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں اور خدا بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ١ؕ قُلْ فِيْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا يُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ (2|219)

لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ ان میں بڑا گناہ ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت بڑا ہے اور لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (راہِ خدا میں) کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے جو کچھ (تمہاری ضروریات سے) زیادہ ہو! اس طرح خدا تمہارے لئے اپنی آیات و ہدایات واضح کرتا ہے۔ تاکہ تم دنیا و آخرت کے بارے میں غور و فکر کرو۔

فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْيَتٰمٰى ١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (2|220)

اور لوگ آپ سے یتیموں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ تو کہہ دیجیے کہ ان کی ہر طرح اصلاح (احوال کرنا) بہتر ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہو (تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں آخر) وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ مفسد (خرابی کرنے والا) اور اصلاح کرنے والا کون ہے اور اگر خدا چاہتا تو تمہیں مشکل و مشقت میں ڈال دیتا یقینا خدا زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے۔