اَوْ يُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِيْعَ لَهٗ طَلَبًا 18|41
یا اس کا پانی اس طرح نیچے اتر جائے کہ تو کسی طرح بھی اسے حاصل نہ کر سکے۔
وَ اُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِيْهَا وَ هِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّيْۤ اَحَدًا 18|42
چنانچہ) اس کے پھلوں کو گھیرے میں لے لیا گیا (ان پر آفت آگئی) تو اس نے باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر کفِ افسوس ملتا تھا اور وہ (باغ) اپنے چھپروں پر گرا پڑا تھا۔ اور وہ کہتا تھا کہ اے کاش کہ میں نے کسی کو اپنے پروردگار کا شریک نہ بنایا ہوتا۔
وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ يَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًا 18|43
اب اس کے پاس کوئی ایسا گروہ بھی نہیں تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ ہی وہ غالب اور بدلہ لینے کے قابل تھا۔
هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ عُقْبًا 18|44
ثابت ہوا) کہ ہر قسم کا اختیار خدائے برحق کیلئے ہے۔ وہی بہتر ثواب دینے والا اور وہی بہترین انجام والا ہے۔
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا 18|45
اور آپ ان لوگوں کے سامنے زندگانی دنیا کی (ایک اور) مثال پیش کریں کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا تو اس سے زمین کی نباتات مل گئی (اور خوب پھلی پھولی) پھر وہ ریزہ ریزہ ہوگئی جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ وَ الْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اَمَلًا 18|46
مال اور اولادِ زندگانی دنیا کی (ہنگامی) زیب و زینت ہیں اور (دراصل) باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے پروردگار کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے بھی اور امید کے اعتبار سے بھی کہیں بہتر ہیں۔
وَ يَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا 18|47
اور وہ دن (یاد کرو) جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو دیکھوگے کہ وہ کھلا ہوا میدان ہے اور ہم اس طرح سب لوگوں کو جمع کریں گے کہ کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔
وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا 18|48
اور وہ تمہارے پروردگار کے حضور صفیں باندھے پیش کئے جائیں گے (تب ان سے کہا جائے گا) آخر تم اسی طرح ہمارے پاس آگئے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ ہاں البتہ تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (دوبارہ پیدا کرنے کا) کوئی وعدہ گاہ مقرر نہیں کیا ہے۔
وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 18|49
اور نامۂ اعمال (سامنے) رکھ دیا جائے گا اور تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اس کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہتے ہوں گے۔ ہائے ہماری کم بختی! یہ کیسا نامۂ عمل ہے؟ جس نے (ہمارا) کوئی چھوٹا بڑا (گناہ) نہیں چھوڑا مگر سب کو درج کر لیا ہے۔ اور جو کچھ ان لوگوں نے کیا تھا وہ سب اپنے اپنے سامنے پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّيَّتَهٗۤ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِيْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا 18|50
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔ تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے وہ جنات میں سے تھا۔ اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی سرتابی کی۔ کیا تم (اے منکرینِ حق) مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی اولاد کو اپنا سرپرست و کارساز بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارا دشمن ہے۔ ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدل ہے۔