اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ يَلْبَسُوْنَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى الْاَرَآىِٕكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا 18|31
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہمیشگی کے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی انہیں ان میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ سبز ریشم کے باریک اور دبیز کپڑے پہنیں گے اور وہ ان میں مسندوں پر گاؤ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہے ان کا ثواب اور کیا ہی اچھی ہے ان کی آرام گاہ۔
وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا 18|32
اے رسول(ص)!) ان لوگوں کے سامنے ان دو شخصوں کی مثال پیش کریں کہ ہم نے ان میں سے ایک کو انگور کے دو باغ دے رکھے تھے اور انہیں کھجور کے درختوں سے گھیر رکھا تھا۔ اور ان کے درمیان کھیتی اگا دی تھی۔
كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَيْـًٔا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًا 18|33
یہ دونوں باغ خوب پھل دیتے تھے اور اس میں کچھ بھی کمی نہیں کی اور ہم نے ان کے درمیان (آبپاشی کیلئے) ایک نہر بھی جاری کر دی تھی۔
وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا 18|34
اور اس کے پاس اور بھی تمول کا سامان تھا۔ (ایک دن گھمنڈ میں آکر) اس نے اپنے (غریب) ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میں مال کے اعتبار سے تجھ سے زیادہ (مالدار) ہوں اور نفری کے لحاظ سے بھی تجھ سے زیادہ طاقتور ہوں۔
وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ 18|35
اور وہ (ایک دن) اپنے باغ میں داخل ہوا جبکہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا تھا (اور) کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرتا کہ یہ (باغ) کبھی تباہ ہو جائے گا۔
وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّ لَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا 18|36
اور میں خیال نہیں کرتا کہ کبھی قیامت برپا ہوگی اور اگر (بالفرض) میں کبھی اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا گیا تو اس (باغ) سے بہتر ٹھکانہ پاؤں گا۔
قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ 18|37
اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس ہستی کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے اور پھر نطفہ سے پیدا کیا پھر تجھے اچھا خاصا مرد بنایا۔
لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّيْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّيْۤ اَحَدًا 18|38
لیکن میں! تو میرا پروردگار تو وہی اللہ ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ 18|39
اور تو جب اپنے باغ میں داخل ہوا تو کیوں نہ کہا؟ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور خدا کی قوت کے بغیر کوئی قوت نہیں ہے)۔ اور اگر تو مجھے مال و اولاد میں (اپنے سے) کمتر دیکھتا ہے۔
فَعَسٰى رَبِّيْۤ اَنْ يُّؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ يُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًاۙ 18|40
تو قریب ہے کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر (باغ) عطا فرمائے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں بھیج دے جس سے وہ چٹیل چکنا میدان بن کر رہ جائے۔