وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَيْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَيْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ 14|21
اور (قیامت کے دن) وہ سب ایک ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ تو جو کمزور (پیروکار) ہوں گے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے (سردار) بنے ہوئے تھے کہ ہم تو (زندگی بھر) تمہارے پیروکار تھے تو تم آج ہمیں اللہ کے عذاب سے کچھ بچا سکتے ہو؟ وہ (بڑے) کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دیتے اب ہمارے لئے برابر ہے جزع فزع کریں یا صبر کریں۔ آج ہمارے لئے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔
وَ قَالَ الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ ؕ وَ مَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ١ؕ اِنِّيْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 14|22
اور جب (ہر قسم کا) فیصلہ ہو جائے گا تو اس وقت شیطان کہے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا مگر میں نے تم سے وعدہ خلافی کی اور مجھے تم پر کوئی تسلط (زور) تو تھا نہیں سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (کفر اور گناہ کی) دعوت دی اور تم نے میری دعوت قبول کر لی پس تم مجھے ملامت نہ کرو (بلکہ) خود اپنے آپ کو ملامت کرو (آج) نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں۔ اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو اس سے پہلے (دنیا میں) جو تم نے مجھے (خدا کا) شریک بنایا تھا میں اس سے بیزار ہوں بے شک ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
وَ اُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 14|23
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ ان بہشتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اپنے پروردگار کے حکم سے ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں ان کی باہمی دعا (بوقت ملاقات) سلام ہوگا۔ (سلامٌ علیکم تم پر سلامتی ہو)۔
اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِۙ 14|24
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح اچھی مثال بیان کی ہے کہ کلمۂ طیبہ (پاک کلمہ) شجرۂ طیبہ (پاکیزہ) درخت کی مانند ہے۔ جس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے۔
تُؤْتِيْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 14|25
جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں پیش کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (اور سمجھیں)۔
وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِ ا۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ 14|26
اور کلمۂ خبیثہ (ناپاک کلمہ) کی مثال شجرۂ خبیثہ (ناپاک درخت) کی سی ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے اور اس کے لئے ثبات و قرار نہ ہو۔
يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ يُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ١ۙ۫ وَ يَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآء 14|27
اللہ ایمان والوں کو قولِ ثابت پر ثابت قدم رکھتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور ظالموں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ 14|28
کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی عطا کردہ نعمت کو کفرانِ نعمت سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں جا اتارا۔
جَهَنَّمَ١ۚ يَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ 14|29
یعنی دوزخ میں جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ (کیسا) برا ٹھکانا ہے۔
وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ 14|30
اور انہوں نے اللہ کے لئے کچھ ہمسر (شریک) بنا لئے ہیں تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستے سے بھٹکائیں (اے رسول) آپ کہہ دیجیے کہ (چندے) عیش کر لو آخر یقینا تمہاری بازگشت آتش دوزخ کی طرف ہے۔