وَ مَاۤ اُبَرِّئُ (13)

سورۃ ابراھیم (14)

(11-20)

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ 14|11

ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ بے شک ہم نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر (اور انسان) مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا احسان فرماتا ہے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم تمہیں کوئی کھلی ہوئی دلیل (معجزہ) پیش کریں مگر اللہ کے حکم سے اور اللہ پر ہی اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیئے۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَيْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ 14|12

آخر ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں ہماری (زندگی کی) راہوں کی راہنمائی کی ہے اور تم ہمیں جو ایذائیں پہنچا رہے ہو ہم ان پر صبر کریں گے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیئے۔

وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَۙ 14|13

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنی سر زمین سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ اور تب ان کے پروردگار نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے۔

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَ خَافَ وَعِيْدِ 14|14

اور ان کے بعد ہم تمہیں اس سر زمین میں آباد کریں گے یہ (وعدہ) ہر اس شخص کے لئے ہے جو میری بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری تہدید سے خائف ہو۔

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍۙ 14|15

اور انہوں (رسولوں) نے (ہم سے) فتح مندی طلب کی (جو قبول ہوئی) اور ہر سرکش ضدی (حق کی مخالفت کرنے والا) نامراد ہوا۔

مِّنْ وَّرَآىِٕهٖ جَهَنَّمُ وَ يُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍۙ 14|16

اس (نامرادی) کے پیچھے جہنم ہے اور اسے کچ لہو قسم کا پانی پلایا جائے گا۔

يَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا يَكَادُ يُسِيْغُهٗ وَ يَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَيِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ 14|17

جسے وہ گھونٹ گھونٹ کرکے پئے گا اور گلے سے اتار نہ سکے گا اور ہر طرف سے اس کے پاس موت آئے گی مگر وہ مرے گا نہیں اور (مزید برآں) اس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا۔

مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ ا۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَيْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ 14|18

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی حالت اس راکھ جیسی ہے جسے سخت آندھی والے دن ہوا اڑا لے جائے جو کچھ انہوں نے کیا (کمایا) اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہ آئے گا یہی بہت بڑی گمراہی ہے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَ يَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍۙ 14|19

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو حق (و حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے۔ (فنا کر دے) اور نئی مخلوق کو لے آئے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيْزٍ 14|20

اور یہ بات اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔