بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ 13|1
الف، لام، میم، را۔ یہ الکتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ سب بالکل حق ہے لیکن اکثر لوگ (اس پر) ایمان نہیں لاتے۔
اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ يَّجْرِيْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ 13|2
اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا ہے بغیر ایسے ستونوں کے جو تم کو نظر آتے ہوں پھر وہ عرش (اقتدار) پر متمکن ہوا۔ اور سورج و چاند کو (اپنے قانون قدرت کا) پابند بنایا (چنانچہ) ہر ایک معینہ مدت تک رواں دواں ہے وہی (اس کارخانۂ قدرت کے) ہر کام کا انتظام کر رہا ہے اور اپنی قدرت کی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین کرو۔
وَ هُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 13|3
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں مضبوط پہاڑ بنا دیے اور نہریں جاری کر دیں اور اس میں ہر ایک پھل کے جوڑے دو قسم کے پیدا کر دیئے وہ رات (کی تاریکی) سے دن (کی روشنی) کو ڈھانپ دیتا ہے بے شک ان سب چیزوں میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 13|4
اور خود زمین میں مختلف ٹکڑے آس پاس واقع ہیں (پھر ان میں) انگوروں کے باغ ہیں (غلہ کی) کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں کچھ ایسے جو ایک ہی جڑ سے کئی درخت نکلے ہیں اور کچھ وہ جو ایسے نہیں ہیں سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں مگر ہم (ذائقہ میں) بعض کو بعض پر برتری دیتے ہیں۔ یقیناً ان امور میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔
وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 13|5
اے مخاطب) اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل ان (کفار) کا یہ قول ہے کہ جب ہم (مر کر) خاک ہو جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا ہوں گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا اور یہ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور یہی جہنمی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ 13|6
اور (اے رسول(ص)) یہ لوگ آپ سے نیکی (مغفرت) سے پہلے برائی (عذاب) کے لئے جلدی کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے (ایسے لوگوں پر) خدائی سزاؤں کے نمونے گزر چکے ہیں اور آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کے ظلم و زیادتی کے باوجود بڑا بخشنے والا ہے اور یقیناً آپ کا پروردگار سخت سزا دینے والا بھی ہے۔
وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ 13|7
اور کافر لوگ کہتے ہیں ان (پیغمبر اسلام(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (ہماری مرضی کے مطابق) کیوں نہیں اتاری جاتی؟ حالانکہ تم تو بس (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لئے ایک راہنما ہوتا ہے۔
اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ 13|8
اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر عورت (اپنے پیٹ میں) کیا اٹھائے پھرتی ہے؟ اور اس کو بھی (جانتا ہے) جو کچھ رحموں میں کمی یا بیشی ہوتی رہتی ہے اور اس کے نزدیک ہر چیز کی ایک مقدار مقرر ہے۔
عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ 13|9
وہ ہر پوشیدہ اور ظاہر سب چیزوں کا جاننے والا ہے وہ بزرگ ہے (اور) عالی شان ہے۔
سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّيْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ 13|10
تم میں سے کوئی چپکے سے کوئی بات کرے یا اونچی آواز میں کرے اور جو رات کے وقت چھپا رہتا ہے یا دن کے وقت (صاف ظاہر) چلتا ہے اس کے علم میں سب یکساں (برابر) ہیں۔