فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَيْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّيْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَيْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَيْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ 12|31
جب زلیخا نے ان عورتوں کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اس نے انہیں بلوا بھیجا اور ان کے لئے مسندیں لگا دیں اور ہر ایک کو (پھل کاٹنے کیلئے) ایک چھری دے دی۔ (پھر جب وہ پھل کاٹ کر کھانے لگیں تو) اس نے یوسف (ع) سے کہا ذرا ان کے سامنے نکل آ پس جب انہوں نے دیکھا تو (حسن و جمال میں) انہیں بڑھا ہوا پایا (لہٰذا حیران رہ گئیں اور پھل کی بجائے) اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں (اور احساس تک نہ ہوا) اور (بے ساختہ) کہہ اٹھیں ماشاء اللہ۔ یہ انسان نہیں ہے بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے۔
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَ لَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ 12|32
عزیز کی بیوی نے کہا یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم میری ملامت کرتی تھیں بے شک میں نے اس پر ڈورے ڈالے اور پھسلانے کی کوشش کی۔ مگر وہ بچا ہی رہا۔ (ہاں البتہ اب برملا کہتی ہوں کہ) اگر اس نے وہ نہ کیا جس کا میں اسے حکم دیتی ہوں تو پھر اسے ضرور قید کر دیا جائے گا۔ اور ضرور ذلیل بھی ہوگا۔
قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدْعُوْنَنِيْۤ اِلَيْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ 12|33
یوسف (ع) نے (بات سن کر کہا) اے میرے پروردگار! اس کام کی نسبت جس کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں مجھے قیدخانہ پسند ہے اور اگر تو مجھ سے ان کے مکر و فریب کو دور نہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں اور اس طرح جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔
فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَيْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ 12|34
پس اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کر لی اور اس سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو دور کر دیا بے شک وہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِيْنٍ 12|35
پھر ایسا ہوا کہ باوجودیکہ وہ (یوسف کی پاکدامنی کی) نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ تاہم انہیں یہی مناسب معلوم ہوا کہ ایک مدت تک اسے قید کر دیں۔
وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّيْۤ اَرٰىنِيْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّيْۤ اَرٰىنِيْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِيْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّيْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ 12|36
اور یوسف (ع) کے ساتھ دو اور جوان آدمی بھی قید خانہ میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب (بنانے کے لیے انگور کا رس) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ سر پر کچھ روٹیاں اٹھائے ہوں۔ جن میں سے پرندے کھا رہے ہیں ہمیں ذرا اس کی تعبیر بتائیے ہم تمہیں نیکوکاروں میں سے دیکھتے ہیں۔
قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ١ؕ اِنِّيْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ 12|37
یوسف (ع) نے کہا جو (مقررہ) کھانا تمہیں دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں تمہارے خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ (تعبیرِ خواب) بھی منجملہ ان علوم کے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے تعلیم دیے ہیں۔ میں ان لوگوں کا دین و مذہب چھوڑے ہوئے ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔
وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ 12|38
اور میں تو اپنے باپ دادا ابراہیم (ع)، اسحاق(ع) اور یعقوب(ع) کے مذہب کا پیرو ہوں۔ ہمیں یہ زیبا نہیں ہے کہ ہم کسی چیز کو بھی خدا کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو اس نے ہم اور سب لوگوں پر کیا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ 12|39
اے قید خانہ کے میرے دونوں ساتھیو (یہ بتاؤ) آیا بہت سے جدا جدا خدا اچھے ہیں یا اللہ جو یگانہ بھی ہے اور سب پر غالب بھی؟
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 12|40
اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی پرستش کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا اور کیا ہے؟ کہ وہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نہیں اتاری ہے حکم و حکومت کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے اسی نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی دینِ مستقیم (سیدھا دین) ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔