وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ يَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ 11|6
اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا جانور نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق خدا کے ذمے ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے اور اس کے سونپے جانے (کم رہنے) کی جگہ کہاں ہے؟ سب کچھ ایک واضح کتاب میں محفوظ ہے۔
وَ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ لَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ 11|7
اور وہی وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور (اس سے پہلے) اس کا عرش پانی پر تھا (یہ سب کچھ کیوں پیدا کیا؟) تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سب سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے؟ اور (اے رسول(ص)) اگر آپ ان سے کہیں کہ تم مرنے کے بعد (دوبارہ) اٹھائے جاؤگے تو کافر لوگ ضرور کہیں گے۔ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
وَ لَىِٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّيَقُوْلُنَّ مَا يَحْبِسُهٗ١ؕ اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْن 11|8
اور اگر ہم ان پر عذاب نازل کرنے میں ایک مقررہ مدت تک تاخیر بھی کر دیں تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ کون سی چیز نے اسے روک رکھا ہے؟ یاد رکھو جس دن ان پر وہ (عذاب) آئے گا تو پھر اسے پھیرا نہ جا سکے گا۔ اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
وَ لَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَيَـُٔوْسٌ كَفُوْرٌ 11|9
اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھائیں (کسی نعمت سے نوازیں) اور پھر اسے اس سے چھین لیں تو وہ بڑا مایوس اور بڑا ناشکرا ہو جاتا ہے۔
وَ لَىِٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّيِّاٰتُ عَنِّيْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ 11|10
اور اگر ہم کسی سختی و تکلیف کے پہنچنے کے بعد کسی نعمت و راحت کا مزہ چکھائیں تو (غافل ہوکر) کہہ اٹھتا ہے کہ میری تمام برائیاں چلی گئیں (دکھ درد دور ہوگئے)۔ بالیقین وہ (انسان) بڑا خوش ہونے والا، بڑا اترانے والا ہے۔