وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ (12)

سورۃ ھود (11)

(61-70)

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِيْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌ 11|61

اور ہم نے قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح(ع) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی نے تمہیں اس میں آباد کیا لہٰذا اس سے مغفرت طلب کرو۔ اور اس کی جناب میں توبہ کرو بے شک میرا پروردگار قریب بھی ہے اور مجیب (دعاؤں کا قبول کرنے والا) بھی۔

قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ 11|62

انہوں نے کہا اے صالح! اس سے پہلے تو تو ہمارے اندر ایک ایسا شخص تھا جس سے (بڑی) امیدیں وابستہ تھیں کیا تم ہمیں اس سے روکتے ہو کہ ہم ان (معبودوں) کی پرستش نہ کریں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے؟ اور ہمیں تو اس بات میں بڑا ہی شک ہے جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو۔

قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَ اٰتٰىنِيْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَيْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ 11|63

صالح(ع) نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی خاص رحمت بھی عطا فرمائی ہے تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اس کے مقابلہ میں کون میری مدد کرے گا؟ تم تو میرے خسارے میں اضافہ کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے۔

وَ يٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰيَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِيْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَيَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيْبٌ 11|64

اور اے میری قوم! یہ اللہ کی خاص اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک خاص نشانی (معجزہ) ہے پس اسے آزاد چھوڑ دو۔ تاکہ اللہ کی زمین سے کھائے اور خبردار اسے کسی قسم کی اذیت نہ پہنچانا۔ ورنہ بہت جلد عذاب تمہیں آپکڑے گا۔

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ 11|65

پس ان لوگوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں (اسے مار ڈالا) تب صالح(ع) نے کہا کہ اب تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو (کھا پی لو) یہ وہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہے۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ 11|66

پس جب ہمارا حکم (عذاب) آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے دی اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا بے شک پروردگار بڑا طاقتور، بڑا زبردست ہے۔

وَ اَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ 11|67

اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک زوردار کڑک نے آپکڑا وہ اس طرح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

كَاَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ 11|68

کہ گویا وہ کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے آگاہ ہو جاؤ قومِ ثمود(ع) نے اپنے پروردگار کا انکار کیا آگاہ ہو کہ ہلاکت و بربادی ہے قوم ثمود کے لئے۔

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ 11|69

بے شک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم(ع) کے پاس خوشخبری لے کر آئے اور کہا تم پر سلام انہوں نے (جواب میں) کہا تم پر بھی سلام پھر دیر نہیں لگائی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَيْدِيَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ 11|70

مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہیں اجنبی خیال کیا اور دل ہی دل میں ان سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا آپ ڈریں نہیں۔ ہم تو (اللہ کی طرف سے) قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔