وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ (12)

سورۃ ھود (11)

(31-40)

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّيْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْۤ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّيْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ 11|31

اور (دیکھو) میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو کہ اللہ انہیں کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اگر میں ایسا کہوں تو ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔

قَالُوْا يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 11|32

ان لوگوں نے کہا اے نوح! تم نے ہم سے بحث و تکرار کی ہے اور بہت کر لی (اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اگر تم سچے ہو تو وہ (عذاب) ہمارے پاس لاؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔

قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 11|33

نوح(ع) نے کہا وہ (عذاب) تو اللہ ہی لائے گا جب چاہے گا اور تم اسے عاجز نہیں کر سکتے۔

وَ لَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَؕ 11|34

اگر اللہ تمہیں گمراہی میں چھوڑ دینا چاہے (اور اس طرح تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو) میں جس قدر تمہیں نصیحت کرنا چاہوں میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَ اَنَا بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ 11|35

کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ (آپ) نے (یہ قرآن) خود گھڑ لیا ہے۔ تو کہیئے! اگر میں نے یہ گھڑا ہے تو اس جرم کا وبال مجھ پر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں۔

وَ اُوْحِيَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 11|36

اور نوح(ع) کی طرف وحی کی گئی کہ ان لوگوں کے سوا جو ایمان لا چکے ہیں تمہاری قوم میں سے اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ پس تم اس پر غمگین نہ ہو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ 11|37

اور ہماری نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بناؤ۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات (سفارش) نہ کرنا (کیونکہ) یقینا یہ سب لوگ غرق ہو جانے والے ہیں۔

وَ يَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ 11|38

چنانچہ نوح(ع) کشتی بنانے لگے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے وہ (نوح) کہتے اگر (آج) تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو (کل کلاں) ہم بھی تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے جس طرح تم اڑا رہے ہو۔

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَ يَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ 11|39

عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيْلٌ 11|40

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا۔ اور تنور نے جوش مارا (ابل پڑا) تو ہم نے (نوح(ع) سے) کہا کہ ہر قسم کے جوڑوں میں سے دو دو (نر و مادہ) کو اس (کشتی) میں سوار کر لو۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی بجز ان کے جن کی (ہلاکت کی) بات پہلے طئے ہو چکی ہے نیز ان کو بھی (سوار کر لو) جو ایمان لا چکے ہیں اور بہت ہی تھوڑے لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔