وَ اعْلَمُوْۤا (10)

سورۃ التوبہ (9)

(71-80)

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ١ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ يُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 9|71

اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں یہ سب باہم دگریکرنگ و ہم آہنگ ہیں وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا۔ یقینا اللہ زبردست ہے، بڑا حکمت والا ہے۔

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 9|72

اللہ نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں سے ان بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے نیز ان کے لئے ان ہمیشگی کے بہشتوں (سدا بہار باغوں) میں پاک و پاکیزہ مکانات ہوں گے۔ اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ یہی ہے بہت بڑی کامیابی۔

يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ 9|73

اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں۔ اور ان پر سختی کریں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بری جائے بازگشت ہے۔

يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِيْمًا١ۙ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِي الْاَرْضِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ 9|74

وہ تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (وہ بات) نہیں کہی۔ حالانکہ انہوں نے یقینا کفر کا کلمہ کہا ہے۔ اور اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کیا ہے اور انہوں نے وہ کام کرنے کا قصد کیا ہے جسے وہ کر نہ سکے ان کی یہ سب خشمناکی اور عیب جوئی صرف اس وجہ سے ہے کہ خدا و رسول نے (مالِ غنیمت دے کر) ان کو تونگر کر دیا ہے۔ سو اگر وہ اب بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ انہیں دنیا و آخرت میں دردناک عذاب دے گا۔ اور تمام روئے زمین پر ان کا کوئی حامی اور یار و مددگار نہ ہوگا۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ 9|75

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے (کچھ مال و دولت) سے نوازا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ضرور نیکوکار بندوں میں سے ہو جائیں گے۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ 9|76

پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے اور روگردانی کرتے ہوئے (اپنے عہد سے) پھر گئے۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ 9|77

پس (اس روش کا نتیجہ یہ نکلا کہ) خدا نے ان کی وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے یومِ لقا (قیامت) تک ان کے دلوں میں نفاق قائم کر دیا۔

اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ 9|78

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ان کے دلی راز اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور وہ غیب کی تمام باتوں کو بڑا جاننے والا ہے۔

اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 9|79

یہ ایسے ہیں کہ خوش دلی سے خیرات کرنے والے مؤمنین پر ریاکاری کا عیب لگاتے ہیں۔ اور جو اپنی محنت مزدوری کے سوا اور کچھ نہیں رکھتے (اس لئے راہِ خدا میں تھوڑا مال دیتے ہیں) یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں اللہ ان کا مذاق اڑائے گا۔ (اس کی سزا دے گا) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 9|80

اے رسول(ص)) آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور خواہ نہ کریں اگر (بالفرض) آپ ان کے لئے ستر بار بھی مغفرت طلب کریں جب بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔ یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا۔ اور خدا فاسق (نافرمان) لوگوں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔