وَ اعْلَمُوْۤا (10)

سورۃ التوبہ (9)

(31-40)

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِيَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 9|31

انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور راہبوں (علماء و مشائخ) کو پروردگار بنا لیا ہے، اور مریم کے فرزند مسیح کو بھی۔ حالانکہ ان کو صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک ہی معبودِ برحق کی عبادت کریں۔ اللہ کے سوا اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ پاک ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ کرتے ہیں۔

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ يَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ 9|32

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور اللہ انکاری ہے ہر بات سے سوا اس کے کہ وہ اپنے نور کو کمال تک پہنچائے اگرچہ کافر اس کو ناپسند کریں۔

هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ 9|33

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے ہدایت اور دینِ حق دے کر اپنے رسول کو بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک اسے ناپسند ہی کریں۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا يُنْفِقُوْنَهَا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 9|34

اے ایمان والو! بہت سے عالم اور راہب لوگوں کا مال ناجائز طریقہ پر کھاتے ہیں اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے رہتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔

يَّوْمَ يُحْمٰى عَلَيْهَا فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ 9|35

یہ (واقعہ) اس دن ہوگا جب کہ اس (سونے چاندی) کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور پھر اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پشتوں کو داغا جائے گا (اور انہیں بتایا جائے گا کہ) یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جمع کرکے رکھا تھا تو اب مزا چکھو اس کا جو تم نے جمع کرکے رکھا تھا۔

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ 9|36

بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد نوشتہ خداوندی میں جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے بارہ ہے، جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی دینِ مستقیم ہے۔ پس ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور تمام مشرکین سے اسی طرح جنگ کرو جس طرح کہ وہ تم سب سے کرتے ہیں اور جان لو کہ بے شک اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

اِنَّمَا النَّسِيْٓءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ يُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِـُٔوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَيُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُيِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ 9|37

سوا اس کے نہیں ہے کہ نسیئی (حرمت والے مہینوں کو مؤخر کرنا) کفر میں زیادتی کا موجب ہے۔ اس سے وہ لوگ گمراہ کئے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ وہ اسے ایک سال حلال قرار دیتے ہیں اور اسی کو دوسرے سال حرام قرار دیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کی گنتی پوری کریں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے تاکہ اس (حیلے) سے اللہ کی حرام کردہ کو اپنے لئے حلال قرار دیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لئے آراستہ کر دیے گئے ہیں اور اللہ کافروں کو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ١ؕ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ١ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ 9|38

اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) نکلو تو تم بوجھل ہوکر زمین گیر ہو جاتے ہو۔ کیا تم نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ہے؟ (اگر ایسا ہی ہے تو یاد رکھو کہ) دنیا کا ساز و سامان آخرت کے مقابلہ میں بالکل قلیل ہے۔

اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا١ۙ۬ وَّ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَيْـًٔا١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 9|39

اگر تم نہیں نکلوگے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب کے ساتھ سزا دے گا اور تمہاری جگہ کسی دوسرے گروہ کو لاکھڑا کرے گا۔ اور تم اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکوگے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا١ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَ اَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ١ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 9|40

اور اگر تم ان (رسول(ص)) کی نصرت نہیں کروگے (تو نہ کرو) اللہ نے ان کی اس وقت نصرت کی جب کافروں نے ان کو (وطن سے) نکال دیا تھا۔ اور آپ دو میں سے دوسرے تھے۔ جب دونوں غار میں تھے اس وقت وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غمگین نہ ہو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ سو اللہ نے ان (رسول(ص)) پر اپنی تسکین نازل کی اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے نہیں دیکھا۔ اور اللہ نے کافروں کے بول کو نیچا کر دیا اور اللہ کا بول ہی بالا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔