قَالَ الْمَلَاُ (9)

سورۃ الاعراف (7)

(111-120)

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِي الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيْنَ 7|111

ان لوگوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے بھائی کو روک رکھیے۔ اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجئے۔

يَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيْمٍ 7|112

جو ہر بڑے ماہر جادوگر کو لے آئیں۔

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ 7|113

چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آگئے تو یقینا ہم ایک بڑے معاوضے کے حقدار ہوں گے۔

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ 7|114

فرعون نے کہا ہاں۔ اور اس کے علاوہ تم ہمارے مقرب بارگاہ لوگوں میں سے ہو جاؤگے۔

قَالُوْا يٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِيَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْنَ 7|115

انہوں نے کہا اے موسیٰ یا تم (پہلے) پھینکو یا پھر ہم ہی پھینکتے ہیں۔

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْيُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ 7|116

انہوں نے (جواب میں) کہا تم ہی پھینکو! پھر جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی نگاہوں کو مسحور کر دیا (ان کی نظر بندی کر دی) اور انہیں خوف زدہ کر دیا اور انہوں نے بڑا زبردست جادو پیش کیا۔

وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَۚ 7|117

ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا پھینکو۔ تو یکایک وہ (اژدھا بن کر) ان کے طلسموں (جادو کے جھوٹے سانپوں) کو نگلنے لگا۔

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 7|118

نتیجہ یہ نکلا کہ) حق ثابت ہوگیا۔ اور جو جھوٹے کاروائی کر رہے تھے وہ باطل ہوگئی۔

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ 7|119

اس طرح وہ (فرعون اور فرعونی) مغلوب ہوئے اور ذلیل و رسوا ہوکر رہ گئے۔

وَ اُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ 7|120

اور تمام جادوگر (کسی غیبی طاقت سے) سجدہ میں گرا دیئے گئے۔