وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ يُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ 6|61
اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے (اور پوری قدرت رکھتا ہے) اور وہ تم پر حفاظت (نگرانی) کرنے والے (فرشتے) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔
ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ 6|62
پھر وہ اللہ کے پاس جو ان کا حقیقی مالک ہے لوٹائے جاتے ہیں۔ خبردار فیصلہ کرنے کا اختیار اسی کو حاصل ہے اور وہ سب سے زیادہ جلدی حساب لینے والا ہے۔
قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْيَةً١ۚ لَىِٕنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ 6|63
اے رسول(ص)) کہیے کہ تمہیں صحرا و سمندر کے اندھیروں سے (مصیبتوں سے) کون نجات دیتا ہے؟ جب تم اسے گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو۔ (اور دل میں کہتے ہو) کہ اگر وہ ہمیں ان (خطرات) سے نجات دے دے تو ہم شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔
قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ 6|64
اے رسول(ص)) کہیئے اللہ تمہیں ان سے اور ہر رنج و غم سے نجات دیتا ہے پھر بھی تم شرک کرتے ہو۔
قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّ يُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُوْنَ 6|65
کہہ دو وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب نازل کرے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے (بھیج دے)۔ یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کرکے اور باہم خلط ملط کرکے ٹکرا دے اور تم میں سے بعض کو بعض کی طاقت و سختی کا مزا چکھا دے۔ دیکھیے ہم کس طرح الٹ پھیر کرکے اپنی آیات (دلیلوں) اور نشانیوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائیں۔
وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ 6|66
اور آپ کی قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا حالانکہ وہ حق ہے کہہ دیجیے کہ میں تمہارا وکیل (نگہبان) نہیں ہوں۔
لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 6|67
اور ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔
وَ اِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 6|68
اور جب دیکھو کہ لوگ ہماری آیتوں کے بارے میں نکتہ چینی اور بے ہودہ بحث کر رہے ہیں تو تم ان سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں اور (اے مخاطب) اگر کبھی شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔
وَ مَا عَلَى الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ 6|69
ان (غلط کار لوگوں) کے حساب و کتاب کی ذمہ داری پرہیزگار لوگوں پر نہیں ہے (جو ان برے کاموں سے بچتے رہتے ہیں) ہاں البتہ (ان کے ذمہ صرف) نصیحت کرنا ہے تاکہ وہ (برے لوگ) پرہیزگاری اختیار کریں۔
وَ ذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيٌّ وَّ لَا شَفِيْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ 6|70
چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین و مذہب کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ و فریب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اور ان کو اس (قرآن) کے ذریعہ سے نصیحت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے کئے کے وبال میں پھنس جائے حالانکہ اللہ کے سوا اس کا نہ کوئی سرپرست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی۔ اور اگر وہ اپنے چھٹکارے کے لیے معاوضہ دینا چاہے گا تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کرتوتوں کے وبال میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے کفر کی وجہ سے ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا اور دردناک عذاب۔