اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِي الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ وَ يَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ 5|91
شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعہ سے بغض و عداوت ڈالے۔ اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے باز رکھے (روکے)۔ کیا اب تم (ان چیزوں سے) باز آؤگے؟ ۔
وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ 5|92
اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور (نافرمانی سے) بچتے رہو اور اگر تم نے روگردانی کی تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے رسول کے ذمہ تو صرف واضح طور پر (ہمارا پیغام) پہنچا دینا ہے اور بس۔
لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ 5|93
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ جو وہ (پہلے) کھا پی چکے ہوں۔ جبکہ (اب) پرہیز کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ اور پھر اس ایمان و پرہیز پر قائم و ثابت قدم بھی رہیں اور پھر تمام برے کاموں سے پرہیز کرتے رہیں اور نیکیاں کرتے رہیں اور اللہ نیک عمل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُهٗۤ اَيْدِيْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّخَافُهٗ بِالْغَيْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 5|94
اے ایمان والو! خدا تمہیں ضرور اس شکار کے ذریعہ سے آزمائے گا جسے تمہارے یہ ہاتھ اور نیزے پا جائیں (تمہاری زد میں ہو) تاکہ وہ (حسب ظاہر) یہ دیکھے کہ غائبانہ طور پر کون اس سے ڈرتا ہے؟ اور جس نے تنبیہ کے بعد بھی حد سے تجاوز کیا تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ 5|95
اے ایمان والو! شکار کو نہ مارو جبکہ تم احرام باندھے ہوئے ہو اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے گا تو اس کا جرمانہ مویشیوں سے کوئی جانور ہوگا۔ جو اس جانور کا ہم پلہ ہو جو اس نے مارا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل شخص کریں گے اور یہ جرمانہ بطور قربانی و نذرانہ خانہ کعبہ پہنچایا جائے گا۔ اس کا کفارہ چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا یا پھر اس کے برابر روزے رکھے جائیں گے۔ تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا کا مزہ چکھے۔ تو پہلے جو ہو چکا اسے تو اللہ نے معاف کر دیا۔ اور جو پھر ایسا کرے گا تو اس سے اللہ انتقام (بدلہ) لے گا۔ اور اللہ غالب ہے (زبردست ہے) اور بدلہ لینے والا ہے۔
اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّيَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 5|96
تمہارے لئے سمندری شکار (تری والا) اور اس کا کھانا اور قافلہ والوں (مسافروں) کے فائدہ کے لئے حلال قرار دیا گیا ہے اور جب تک تم حالت احرام میں ہو خشکی کا شکار تم پر حرام کیا گیا ہے اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو۔ جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْيَ وَ الْقَلَآىِٕدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 5|97
خدا نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے۔ حرمت والے مہینوں کو اور قربانی کے جانوروں کو اور گلے میں پٹہ بندھے جانوروں کو لوگوں کی بقاء و فلاح کا سبب اور مرکز بنایا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 5|98
جان لو کہ اللہ (مقامِ عقاب میں) سخت سزا دینے والا بھی ہے اور مقامِ عفو و صفح میں بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا بھی ہے۔
مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ 5|99
پیغمبر کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچانا ہے اور بس۔ اور اللہ اسے بھی جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور اسے بھی جسے تم چھپاتے ہو۔
قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَ الطَّيِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 5|100
کہہ دیجیے کہ خبیث (ناپاک) اور طیب (پاک) برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث (ناپاک) کی کثرت اور بہتات تمہیں تعجب میں بھی ڈال دے (تمہیں بھلی لگے) اے عقل والو! خدا کی نافرمانی سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔