وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ 46|21
اے رسول(ص)) قومِ عاد کے بھائی (جنابِ ہود(ع)) کاذکر کیجئے جبکہ انہوں نے اپنی قوم کو مقامِ احقاف (ریت کے ٹیلوں والی بستی) میں ڈرایا تھا جبکہ بہت سے ڈرانے والے ان سے پہلے بھی گزر چکے اوران کے بعد بھی (جنابِ ہود(ع) نے کہا کہ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (ورنہ) مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔
قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 46|22
ان قوم والوں نے کہا کہ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ ہمیں اپنے معبودوں سے منحرف کردو۔ لاؤ ہمارے پاس وہ (عذاب) جس کی دھمکی تم ہمیں دیتے ہواگر تم سچے ہو۔
قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّيْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ 46|23
جنابِ ہود(ع) نے کہا اس (نزولِ عذاب) کا علم تو بس اللہ کے پاس ہے میں تو صرف تم تک وہ (پیغام) پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔ لیکن میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم بالکل جاہل قوم ہو۔
فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِيَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِيْحٌ فِيْهَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ 46|24
پس جب انہوں نے (عذاب) کو ایک بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ بادل تو ہم پر برسنے والا ہے بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے (یہ تند و تیز) ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا يُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ 46|25
وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر چیز کو تباہ و برباد کر دے گی۔ چنانچہ وہ ایسے ہو گئے کہ ان کے مکانوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہیں آتا تھا ہم مجرم قوم کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔
وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـِٕدَةً فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْـِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْن 46|26
ہم نے ان لوگوں کو ان کاموں کی قدرت دی تھی جو تمہیں بھی نہیں دی اور ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل دیئے تھے مگر ان کے کانوں اور آنکھوں اور دلوں نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا کیونکہ وہ آیاتِ الہیہ کا انکار کیا کرتے تھے اور ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَ صَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 46|27
اور ہم نے تمہارے اردگرد کی کئی بستیوں کو ہلاک و برباد کر دیا اور ہم نے اپنی (قدرت کی) نشانیاں پھیر پھیر کر(مختلف انداز سے) پیش کیں تاکہ وہ باز آجائیں۔
فَلَوْ لَا نَصَرَهُمُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُرْبَانًا اٰلِهَةً١ؕ بَلْ ضَلُّوْا عَنْهُمْ١ۚ وَ ذٰلِكَ اِفْكُهُمْ وَ مَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 46|28
تو انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جن کو انہوں نے خدا کے تقرب کیلئے معبود بنا رکھا تھا بلکہ وہ تو ان سے غائب ہو گئے، یہ تھا ان کا جھوٹ اور ان کا بہتان جو وہ باندھتے تھے۔
وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ 46|29
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے جنات کے کچھ افراد کو آپ(ص) کی طرف متوجہ کیا تاکہ وہ غور سے قرآن سنیں۔ پس وہ اس جگہ پہنچے (جہاں قرآن پڑھا جا رہاتھا) تو (آپس میں کہنے لگے) خاموش ہو کر سنو پس جب (قرآن) پڑھا جا چکا تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن کر لوٹے۔
قَالُوْا يٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ 46|30
انہوں نے کہا اے ہماری قوم! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسٰی (ع)ٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے (اور جو) حق اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔
يٰقَوْمَنَاۤ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ يُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ 46|31
اے ہماری قوم! اللہ کیطرف بلانے والے کی دعوت پر لبیک کہو اور اس پر ایمان لے آؤ۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔
وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَيْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءُ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 46|32
اور جو کوئی اللہ کی طرف بلانے والے کی آواز پر لبیک نہیں کہے گا تو وہ زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کرسکتا (اس کے قابو سے باہر نہیں نکل سکتا) اور نہ اللہ کے سوا اس کے لئے کوئی مددگار و سازگار ہے ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔
اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى ١ؕ بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 46|33
کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں ہے وہ اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو زندہ کرے۔ ہاں بےشک وہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔
وَ يَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَلَيْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ 46|34
اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ وہ کہیں گے کہ ہاں ہمیں قَسم ہے اپنے پروردگار کی! ارشاد ہوگا اپنے کفر و انکارکی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔
فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوْعَدُوْنَ١ۙ لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍ١ؕ بَلٰغٌ١ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ 46|35
اے رسول(ص)) آپ(ص) اسی طرح صبر کریں جس طرح اولوالعزم رسولوں(ع) نے صبر کیا ہے اور ان کیلئے جلدی نہ کریں جس دن وہ دیکھیں گے (وہ عذاب) جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ محسوس کریں گے کہ وہ (دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ بس یہ پیغام پہنچا دینا ہے۔ انجامِ کار ہلاک و برباد وہی ہوں گے جو فاسق و فاجر ہیں۔