فَمَنْ اَظْلَمُ (24)

سورۃ غافر (40)

(31-40)

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ 40|31

جیسا حال قومِ نوح(ع) اور عاد و ثمود اور ان کے بعد والوں کا ہوا تھا اور اللہ تو (اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ (بھی) نہیں کرتا۔

وَ يٰقَوْمِ اِنِّيْۤ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِۙ 40|32

اے میری قوم! میں تمہارے بارے میں چیخ و پکار والے دن سے ڈرتا ہوں۔

يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 40|33

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (دوزخ کی طرف) بھاگوگے تمہیں اللہ کے (عذاب) سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ گمراہی میں چھوڑ دے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہوتا۔

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ 40|34

اور (اے میری قوم) اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف(ع) کھلی ہوئی دلیلیں (معجزات) لے کر آئے مگر تم برابر شک ہی میں پڑے رہے یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا (اب) اللہ ان کے بعد ہرگز کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہی میں چھوڑتا ہے جو حد سے بڑھنے والا (اور) شک کرنے والا ہوتا ہے۔

ا۟لَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ 40|35

جو لوگ آیاتِ الٰہی میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو۔ یہ روش اللہ اور اہلِ ایمان کے نزدیک سخت مبغوض (اور ناپسندیدہ) ہے اللہ اسی طرح ہر منکر و سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ 40|36

اور فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لئے ایک اونچا محل بنا (بنوا) تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) راستوں تک پہنچ جاؤں۔

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّيْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ١ؕ وَ مَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِيْ تَبَابٍ 40|37

یعنی آسمانوں کے راستوں تک (اور پھر وہاں سے) موسیٰ(ع) کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کیلئے اس کا بدعمل خوشنما بنا دیا گیا اور وہ (سیدھے) راستہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی ہر تدبیر (چالبازی) غارت ہی گئی (اور اس کی تباہی پر منتج ہوئی)۔

وَ قَالَ الَّذِيْۤ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِۚ 40|38

اور جو شخص ایمان لا چکا تھا اس نے کہا اے میری قوم! میری پیروی کرو۔ میں تمہیں سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔

يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ 40|39

اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی محض (چند روزہ) فائدہ ہے اور مستقل قیام گاہ تو آخرت ہی ہے۔

مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ 40|40

کوئی برائی کرتا ہے تو اسے بدلہ بھی اس کے برابر ملے گا اور جو کوئی نیک کام کرتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مؤمن ہو تو یہ بہشت میں داخل ہوں گے جہاں انہیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔