اِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِيَادُۙ 38|31
اور وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب شام (سہ پہر) کے وقت میں عمدہ گھوڑے (معائنہ کیلئے) ان پر پیش کئے گئے۔
فَقَالَ اِنِّيْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّيْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ 38|32
تو انہوں نے کہا کہ میں مال (گھوڑوں) کی محبت میں اپنے پروردگار کی یاد سے غافل ہوگیا یہاں تک کہ وہ (آفتاب) پردہ میں چھپ گیا۔
رُدُّوْهَا عَلَيَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ 38|33
حکم دیا) ان (گھوڑوں) کو میرے پاس واپس لاؤ اور وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے (قطع کرنا شروع کیا)۔
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمٰنَ وَ اَلْقَيْنَا عَلٰى كُرْسِيِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ 38|34
اور ہم نے سلیمان(ع) کو (اس طرح) آزمائش میں ڈالا کہ ان کے تخت پر ایک (بے جان) جسم ڈال دیا پھر انہوں نے (ہماری طرف) رجوع کیا۔
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ 38|35
(اور) کہا اے میرے پروردگار مجھے معاف کر اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر جو میرے بعد کسی کیلئے زیبا نہ ہو۔ بیشک تو بڑا عطا کرنے والا ہے۔
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيْحَ تَجْرِيْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَيْثُ اَصَابَۙ 38|36
اور ہم نے ان کیلئے ہوا کو مسخر کر دیا تھا جو ان کے حکم سے جہاں وہ چاہتے تھے آرام سے چلتی تھی۔
وَ الشَّيٰطِيْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ 38|37
اور شیاطین بھی (مسخر کر دیئے) جو کچھ معمار تھے اور اور کچھ غوطہ خور۔
وَّ اٰخَرِيْنَ مُقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ 38|38
اور ان کے علاوہ (کچھ ایسے سرکش بھی تھے) جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ 38|39
یہ ہماری عطا ہے (آپ(ع) کو اختیار ہے) جسے چاہے عطا کر اور جس سے چاہے روک رکھ۔
وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ 38|40
اور بے شک ان (سلیمان(ع)) کیلئے ہمارے ہاں (خاص) قرب حاصل ہے اور بہتر انجام ہے۔