وَ مَنْ يَّقْنُتْ (22)

سورہ فاطر (35)

(31-45)

وَ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيْرٌۢ بَصِيْرٌ 35|31

اور جو کتاب ہم نے بذریعۂ وحی آپ(ص) کی طرف بھیجی ہے وہ برحق ہے اور اپنے سے پہلے والی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے بیشک اللہ اپنے بندوں (کے حالات) سے باخبر (اور) بڑا دیکھنے والا نگران ہے۔

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُؕ 35|32

پھر ہم نے اس کا وارث ان کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کر لیا ہے پس ان بندوں سے بعض تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض معتدل ہیں اور بعض اللہ کے اذن (اور اس کی توفیق) سے نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں یہی تو بہت بڑا فضل ہے۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 35|33

ان کا صلہ) سدا بہار بہشت ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُ 35|34

اور وہ (بطور شکرانۂ نعمت کہیں گے سب تعریف اللہ) کیلئے ہے (اور اس کا شکر ہے) جس نے ہم سے رنج و غم دور کر دیا ہے بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا، بڑا قدر دان ہے۔

ا۟لَّذِيْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا نَصَبٌ وَّ لَا يَمَسُّنَا فِيْهَا لُغُوْبٌ 35|35

جس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایسی دائمی قیامت کی جگہ پر اتارا ہے جہاں نہ کوئی زحمت ہوتی ہے اور نہ ہی تھکن محسوس ہوتی ہے۔

وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ 35|36

اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کیلئے دوزخ کی آگ ہے (وہاں) نہ ان کی موت کا فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور نہ ہی ان کیلئے عذابِ جہنم میں کوئی کمی کی جائے گی ہم اسی طرح ہر ناشکرے کو سزا دیتے ہیں۔

وَ هُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِيْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ 35|37

اور وہ (دوزخی) اس میں چیخیں چلائیں گے اے ہمارے پروردگار! ہمیں یہاں سے نکال (اور دارِ دنیا میں بھیج) تاکہ ہم نیک عمل کریں ایسے نہیں جیسے پہلے کرتے تھے (ارشادِ قدرت ہوگا) کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں نصیحت قبول کرنے والا نصیحت قبول کر سکتا تھا؟ اور (علاوہ بریں) تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا اب (اپنے کئے کا) مزہ چکھو (آج) ظالموں کا کوئی یار و مددگار نہیں ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَيْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 35|38

بیشک اللہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے۔ یقیناً وہ دلوں کے رازوں سے خوب واقف ہے۔

هُوَ الَّذِيْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِي الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا يَزِيْدُ الْكٰفِرِيْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا 35|39

وہ وہی ہے جس نے تمہیں (گزشتہ لوگوں کا) جانشین بنایا سو جو کوئی کفر کرے گا۔ تو اس کے کفر (کا وبال) اسی پر پڑے گا اور کافروں کا کفران کے پروردگار کے ہاں سوائے قہر و غضبِ الٰہی کے اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا اور کافروں کا کفر صرف ان کے خسارے اور گھاٹے میں اضافہ کرتا ہے۔

قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِيْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَيِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا 35|40

آپ(ص) کہہ دیجئے! (اے مشرکو) کیا تم نے کبھی اپنے (خودساختہ) شریکوں کو دیکھا بھی ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے؟ یا ان کی آسمانوں میں شرکت ہے یا ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی بناء پر (اپنے شرک کے جواز کی) کوئی سند رکھتے ہوں؟ (کچھ بھی نہیں) بلکہ (یہ) ظالم لوگ ایک دوسرے سے محض پُر فریب وعدے کرتے ہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَىِٕنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا 35|41

بے شک اللہ (اپنی قدرتِ کاملہ) سے آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں اور اگر وہ (بالفرض) ہٹ جائیں تو اس کے سوا انہیں کون تھام سکتا ہے؟ بے شک وہ (اللہ) بڑا بردبار (اور) بڑا بخشنے والا ہے۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَآءَهُمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ 35|42

اور یہ لوگ (کفارِ مکہ) بڑی سخت قَسمیں کھا کر کہتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا (پیغمبر) آیا تو وہ ہر ایک قوم سے بڑھ کر ہدایت قبول کرنے والے ہوں گے لیکن جب ان کے پاس ڈرانے والا آگیا تو اس (کی آمد) نے ان کی نفرت۔

ا۟سْتِكْبَارًا فِي الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّيِّئِ١ؕ وَ لَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِيْلًا 35|43

زمین میں سرکشی کرنے اور بری سازشیں کرنے میں اضافہ ہی کیا حالانکہ بری سازشیں تو اس کو گھیرتی ہیں جو بری سازش کرتا ہے سو کیا اب یہ لوگ پہلے والے لوگوں کے ساتھ خدا کے طریقۂ کار کا انتظار کر رہے ہیں (کہ ان کے ساتھ بھی وہی ہو) تم خدا کے دستور (طریقۂ کار) میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤگے (کہ مقررہ قاعدے سے پھر جائے)۔

اَوَ لَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعْجِزَهٗ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِيْمًا قَدِيْرًا 35|44

کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ وہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والے لوگوں کا انجام کیا ہوا تھا حالانکہ وہ قوت و طاقت میں ان سے بڑھے ہوئے تھے آسمانوں اور زمین میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اللہ کو عاجز (بے بس) کر سکے۔ وہ بڑا جاننے والا، بڑا قدرت رکھنے والا ہے۔

وَ لَوْ يُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْرًا 35|45

اور اگر خدا لوگوں کا ان کے (برے) اعمال کی پاداش میں جلدی مواخذہ کرتا (پکڑتا) تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا لیکن ان کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا ہے تو جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی تو اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا (نگران) ہے۔